برأت اور عصرِ حاضر کے مسلمان !
پندرہویں شعبان کی رات کو عرف عام میں شب برأت کہا جاتاہے ۔ اس رات کے بارہ میں عوام الناس کے درمیان بہت سے نظریات اور بدعتی عقائد رائج ہوچکے ہیں، جن کی تفصیل اور شرعی حیثیت ذیلی سطور میں پیش کی جارہی ہے:
۱۔ فیصلوں کی رات :
عوام الناس کی اکثریت کو علماء سُوء نے قرآن وحدیث کی باطل تاویلات کے ذریعے اپنے دامن تزویر میں پھنسایا ہواہے، دنیا پرست علماء نے اس رات کے بارہ میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ اس میں تمام انسانوں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ وہ بطور دلیل قرآن پاک کی اس آیت کو پیش کرتے ہیں ۔
{إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ}
(3) سورة الدخان
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔‘‘(الدخان:۳)
حالانکہ یہاں پر باری تعالیٰ نے وضاحت نہیں فرمائی کہ لیلہ مبارکہ کونسی رات ہے دوسرے مقام پر اس کی توضیح کی ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے اور ہر مسلم اس حقیقت سے آشنا ہے کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان میں ہوتی ہے نہ کہ شعبان کی پندرہویں رات کو ۔
۲۔روحوں کی آمد :
عوام الناس میں یہ سوچ بھی سرایت کرچکی ہے کہ اس رات مردوں کی روحیں اپنے اپنے گھروں میں آتی ہیں حالانکہ باری تعالیٰ نے اس نظریہ کی تردید اپنے اس فرمان میں بخوبی کی ہے کہ
{ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ}
(100) سورة المؤمنون
اور ان (مرنے والوں) کے درمیان دوبارہ جی اٹھنے کے دن قيامت تک ایک آڑ حائل ہوگی۔(المؤمنون : 100)
۳-زیارت قبور:
قبروں کی زیارت سے آخرت کی یاد آتی ہے اور انسان مزید نیک کام کرنے پر آمادہ ہوتاہے۔ رسول مکرم ﷺ نے زیارت قبور کی اجازت بھی دی ہے اور بذات خود بھی آپ قبروں کی زیارت کے لیے متعدد مرتبہ قبرستان تشریف لے گئے ہیں مگر زیارت قبور کے لیے کسی خاص موقع کی تحدید کرنا بدعت ہے جس سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔
۴-حلوہ خوری :
شب برأت میں حلوہ خوری کی رسم بد قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ طرز عمل دنیا پرست علماء نے رائج کیا تاکہ وہ اپنے شکم کو مال حرام سے بھر سکیں ، حلوہ خور علماء اپنے اس فعل کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے واقعہ احد کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اس میں رسول مکرم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوئے تھے تو رسول معظم ﷺ نے حلوہ تناول فرمایا تھا مگر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ دندان مبارک کی شہادت کا واقعہ ماہ شوال 3 ہجری میں واقع ہوا اس کا ماہ شعبان یا شعبان کی پندرہویں تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بفرض محال اگر اس مفروضہ کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو کامل اتباع کا تقاضا تو یہ ہے کہ پہلے اپنےبهى دانت توڑے جائیں پھر حلوہ خوری کا ’’شوق ‘‘پورا کیا جائے۔ حاصل یہ کہ شب برأت میں حلوہ خوری عبادت نہیں بلکہ بدعت ہے جس سے کلّی گریز ضروری ہے۔
۵- آتش بازی :
شب برأت کی مروجہ خرافات میں سے معروف ترین خرافات اس شب آتش بازی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ دین اسلام کی تعلیمات نے خوشی کے مواقع پر کیا طرز عمل ہونا چاہیے پوری شرح وبسط سے بیان کیا ہے ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو فضول اور سطحی قسم کی حرکات سے باز رکھتاہے۔ آتش بازی سے مال کا ضیاع لازم آتاہے شریعت نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ شب برات کے موقع پر مساجد میں خصوصی چراغاں کرنا اور اس کو خوشبودار بنانا دراصل برامکہ کی گھناؤنی سازش کا نتیجہ ہے جیسا کہ شیخ ابن العربی اپنی کتاب المنکرات ص 76 میں تحریر فرماتے ہیں ’’مسجدوں میں خوشبو کی دھونی رکھنے کا سب سے پہلے رواج یحی بن خالد برمکی نے ڈالا ، یحی بن خالد برمکی خلیفہ وقت کا وزیر اور درباری تھا اس کا مقصد مجوسیّت کا احیاء تھا۔
آتش بازی وغیرہ میں ہندؤوں کی دیوالی اور عیسائیوں کے کرسمس ڈے سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ دین اسلام نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
۶- ( صلاۃُ اَلفیَہ) :
شب برأت میں رائج شدہ خلاف اسلام اُمور میں سے سرفہرست. ہزاروی نماز کی پابندی سے ادائیگی ہے ۔
صلاۃِ اَلفیہ کا طریقہ:
رسول مکرم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : اے علی! جس نے بھی پندرہ شعبان کی رات سو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں 10 ، 10 بار سوره فاتحہ اور سوره اخلاص پڑھتاہے پھر آپ نے فرمایا ، اے علی! جو شخص بھی ان نمازوں کو ادا کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی تمام حاجات پوری فرماتے ہیں ۔
نوٹ :
اس بدعتی نمازکے بارہ میں امام إبنُ الجَوزی (الموضوعات) میں متعدد روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’اس حدیث کے مَن گھڑت ہونے میں مجھے کوئی شک نہیں... اس روایت کے تمام اشخاص نامعلوم ہیں کچھ تو بہت زیادہ ضعیف ہیں ۔ اس روایت کا حدیثِ رسول ہونا ناممکن ہے۔ ( الموضوعات ۲/ ۱۲۷۔۱۳۰)
امام شُوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع (من گھرت )ہے اور اس حدیث میں رات کی عبادت کا اہتمام کرنے والوں کے لیے جو ثواب بیان ہوا ہے ۔ ارباب بصیرت کے نزدیک اس روایت کے موضوع ہونے کے لیے کافی ہے ۔ اس حدیث کےبيان كرنيوالے تمام رجال مجہول(نامعلوم) ہیں ۔ (الفوائد المجموعۃ ص: ۵۱۔۵۲)
امام إبن القیّم "المنار المنیف" میں صلاۃ الفیہ کے بارہ میں رقمطراز ہیں :
علم حدیث سے بہرہ ور شخص کا ایسی روایات سے دھوکہ کھانا باعث حیرت ہے (درحقیقت) یہ نماز اسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس میں ادا کی گئی پھر اس کی فضیلت کے بارہ میں احادیث بنائی گئی۔
صلاۃِ اَلفِیَہ کی ابتداء :
اس بدعتی نماز کا آغاز کب اور کیسے ہوا امام مقدسی رحمہ اللہ اس بارہ میں رقمطراز ہیں :
ہمارے ہاں (بیت المقدس میں) صلاۃ الرغائب اور صلاۃ شعبان (مراد صلاۃ الفیہ ہے) کا تصور تک نہ تھا۔447 ہجری میں (نابلس) کے علاقے سے إبن أبی الحمراء بیت المقدس میں آیا۔ اس کی آواز خوبصورت تھی۔ پندرہ شعبان کی رات میں وہ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا ۔ اس کی آواز سے متاثر ہوکر ایک شخص اس کے ساتھ مل گیا اس کے بعد متعدد لوگ اس کے پیچھے جمع ہوگئے ۔
دوسرے سال پھر وہ بیت المقدس آیا اور یہی عمل دوہرایا پھر تیسر ے ، چوتھے سال بھی ایسے ہی کیاالغرض آہستہ آہستہ یہ بدعت زور پکڑتی گئی اور افسوس کہ یہ سلسلہ بدعتیہ اب تک جاری ہے ۔ (البدع الحولیہ ص: 299)
قارئین کرام! درج بالا سطور میں ہم نے ماہ شعبان سے متعلق ارشادات نبویہ ﷺ ذکر کیے ہیں آئیے ہم اپنے احوال کا جائزہ لیں اگر ہمارا طرز عمل خلافِ سنّت ہے تو آج ہی اس کو خیر آباد کہیں تاکہ دنیا وآخرت کی رُسوائی سے بچ سکیں۔
وما علینا إلا البلاغ المبین

Post a Comment