بسم اللہ الرحمن الرحیم
ورقہ بن نوفل تورات و زبور کا عالم اور نصرانیت قبول کرنے کے بعد انجیل کا بھی عالم بن گیا تھا۔ اسی سے بائبل کی باتیں سن کر (معاذ اللہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آیات بناتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ورقہ کے انتقال کے بعد وحی کا سلسلہ تین سال منقطع رہا۔
اس کے علاوہ ملحدہ امی آمنہ کو بیٹے سے کوئی محبت نہ تھی، بلکہ وہ انہیں نحس سمجھتی تھیں، اس لیے بچپن میں ہی خود سے دور کر دیا۔ پھر یہ دعویٰ بھی جھاڑ رکھا تھا کہ امی حلیمہ بھی حضور علیہ السلام سے تنگ تھیں، اس لیے پہلے انہیں دو سال کی عمر میں واپس چھوڑنے آئیں، لیکن اماں آمنہ نے واپس کر دیا۔ پھر پانچ سال کی عمر میں حلیمہ بہت تنگ آگئیں تو ایک نہ سنی اور زبردستی حضور علیہ السلام کو چھوڑ گئیں (معاذ اللہ). اور پھر یہ بھی کہنا تھا ملحدہ کا کہ حضور علیہ السلام کو بھی انہی باتوں کے سبب ماں سے کوئی محبت نہ تھی، اس لیے وہ بھی محض دو بار ہی امی آمنہ کی قبر پہ تشریف لے گئے۔ احادیث میں بھی اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم ہی امی آمنہ کا ذکر کیا ہے۔ وغیرہ۔
ورقہ بن نوفل کے آثار نبوت ظاہر ہونے سے پہلے انتقال کا ثبوت مجھے اس ضمن میں سب سے پہلے اس لیے پیش کرنا پڑا، کیونکہ بنیادی اصرار پوسٹ میں اسی نکتے پر تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے ساری مکی آیات ہی ورقہ سے پوچھ کے لکھی ہیں۔ آپ ذرا ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ورقة . فقالت له خديجة إنه كان قد صدقك ولكن مات قبل أن تظهر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أريته في المنام وعليه ثياب بيض ولو كان من أهل النار لكان عليه لباس غير ذلك" . رواه أحمد والترمذي.
ترجمہ:
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ ابن نوفل کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ وہ مؤمن تھے یا نہیں ؟ ) اور حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا کہ وہ ورقہ نوفل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ظاہر ہونے سے پہلے مرگئے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو خواب میں ورقہ بن نوفل کو اس حالت میں دکھلایا گیا ہے کہ اس پر سفید کپڑے تھے اور وہ دوزخی ہوتے تو ان کے جسم پر اور طرح کے کپڑے ہوتے ۔ (الترمذی )
ورقہ بن نوفل کا تو یوں ہوگیا قصہ تمام۔ جب وہ پہلی وحی کے بعد زندہ ہی نہیں رہا اور بقول ملحدین اس کے تین سال بعد تک وحی ہی نازل نہیں ہوئی تو کونسی آیات لکھوا گیا پھر وہ؟ اور اگر کوئی ملحد یہ کہنا چاہے کہ حضور نے بائبل کی باتیں سن تو لی تھیں، بعد میں انہی سے آیات بناتے رہے تو پھر تین سال بعد بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کے مرتے ہی کیوں نا بنانا شروع کر دیں جب باتیں تازہ تھیں اور یاد رکھنا بھی ایسے میں زیادہ آسان ہوتا ہے؟ اور یہ کونسی کاپی تھی کہ راتیں چھوڑ کے صرف چھ ایام کو تخلیق کائنات کا دورانیہ بتایا؟ یہ کیسی کاپی تھی کہ طوفان نوح کو پوری دنیا نہیں صرف ان کی قوم تک محدود بتایا؟ یہ کیسی نقل تھی کہ لوط علیہ السلام کو اپنی بیٹیوں سے زنا کرنے والا بتایا (حوالہ: پیدایش باب 19، ورس 30 تا38) نہ عیسیٰ علیہ السلام کو ملعون (انجیل مرقس باب 15، ورس 28)، یہ کون سی کاپی تھی کہ سلمان علیہ السلام کو بت پرست بتایا (1سلاطین باب 11، ورس 1 تا 4)، نہ داوٴد علیہ السلام کو زانی (1سلاطین باب 11 ورس 4)۔ موسیٰ علیہ السلام کا تو لگ بھگ پورا واقعہ ہی بائبل سے مختلف ہے۔ باقی اعتراضات یعنی امی آمنہ اپنے بیٹے کو کیا سمجھتی اور کتنا چاہتی تھیں۔۔۔ حضور کو خود سے دور کیوں بھیجا۔۔۔ اماں حلیمہ دو سال بعد کیوں چھوڑنے آئیں اور پھر ساتھ واپس کیوں لے گئیں۔۔۔ کیاواقعی امی آمنہ حضور کو معاذ اللہ نحس مانتی تھیں اس لیے انہیں واپس بھیج دیا۔۔۔ کیا انہیں واقعی اپنے لعل سے محبت نہ تھی جو انہیں اپنا دودھ تک نہ پلایا۔۔۔ پانچ سال کی عمر میں ایسا کیا ہوا جو اماں حلیمہ بضد حضور کو واپس چھوڑ گئیں۔۔۔ کیا وہ واقعی حضور سے تنگ تھیں۔۔۔ یہ اور اس جیسے باقی تمام اعتراضات کس قدر دروغ گوئی اور فریب پر مبنی تھے، آیئے دیکھیے کس طرح ثابت ہے۔
نام سے کیا گیا ہے۔
سراسر جھوٹ ہے کہ امی آمنہ نے حضور کو دودھ نہیں پلایا۔
آپ کو اولًا سیدہ آمنہ صاحبہ نے دودھ پلایا۔۔۔پھرابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ نے دودھ پلایا۔۔۔اور بعد ازاں سیدہ حلیمہ نے دودھ پلایا۔
وأر ضعتہ مع أ مہ علیہ السلام مولاۃ عمہ أبی لہب ثویبۃقبل حلیمۃ السعدیہ (البد ایہ والنہایہ ج۔۲صفحہ۲۲۹)
عرب کا دستور تھا کہ شرفاء اپنے بچوں کو ابتدا ہی سے دیہات میں بھیج دیتے تھے تاکہ
(۱)۔۔۔بچے کھلی فضاء میں پرورش پائیں۔
(۲)۔۔۔ہر قوم کی اصل تہذیب وتمدن اصل لغت وزبان دیہات میں ہوتی ہے تاکہ بچے اصل عربی خصوصیات سے متصف ہو کر آئیں۔
بقول ابن سعد کے اس سال (قدم مکۃ عشر نسوۃ من بنی سعد بن بکر ) (طبقات ابن سعدجلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۷۳)
قبیلہ بنی سعد کی دس عورتیں شیر خوار بچوں کی تلا ش میں مکہ مکرمہ میں آئیں۔۔۔ ہر ایک نے بستی کا چکر لگایا


Post a Comment