GuidePedia

0
اس شخص کا کفر جو یہ کہے کہ ہمیں ستاروں کے طلوع ہونے سے بارش ملی !

بسم الله الرحمن الرحيم

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں صبح کی نماز حدیبیہ میں ( جو مکہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے ) پڑھائی اور رات کو بارش ہوئی تھی۔ جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ: "کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں۔آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ(آج) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانے والا اور (کوئی میرے ساتھ) کفر کرنے والا ہوگیا۔تو جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ مجھ پر ایمان لا یا اور ستاروں کے بارش برسانے کا منکر ہوا ۔ اور جس نے کہا کہ بارش فلاں فلاں ستارے (کے غروب و طلاع ہونے) کی وجہ سے ہوئی تو اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔
صحیح مسلم :حدیث نمبر:231(71)

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب عزوجل نے کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو نعمت بھی میں اپنے بندوں کودیتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ (سے تعلق رکھنے والے لوگ) اس (نعمت) کے سبب سے کفر کرنے والے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں:فلاں ستارے (نے یہ نعمت دی ہے) یا فلاں فلاں ستاروں کے سبب سے (ملی ہے۔)"
صحیح مسلم : حدیث نمبر:232(72)

ًمحمد بن سلمہ مرادی نے اپنی سند سے اور عمر بن سواد نے اپنی سند سے عمر بن حارث سے روایت کی، انہوں نے کہا:ہمیں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: " اللہ تعالیٰ آسمان سے برکت (بارش) نازل نہیں کرتا مگر لوگوں کا ایک گروہ، اس کے سبب سے کافر ہوجاتا ہے، بارش اللہ اتارتا ہے (لیکن) یہ لوگ کہتے ہیں کہ :فلاں فلاں ستارے نے (اتاری ہے)۔"
اورمرادی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:"فلاں فلاں ستارے کے باعث (اتری ہے)"
صحیح مسلم : حدیث نمبر:233

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپﷺنے فرمایا آج صبح کو بعض لوگوں نے شکر کیا اور بعض نے کفر کیا ۔اور جنہوں نے شکر کیا انہوں نے کہا یہ اللہ کی رحمت ہے ۔ اور جنہوں نے کفر کیا انہوں نے کہا فلاں فلاں نوء(ایک ستارے کا غروب اور اس کے سبب سے دوسرے کی بلندی) سچی نکلی۔" (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں:اس پر یہ آیت نازل ہوئی فلا أقسم بمواقع النجوم۔۔۔(میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں")سے وتجعلون رزقکم أنکم تکذبون (اور تم اپنا حصہ یہ رکھتے کہ تم اس کی تکذیب کرتے ہو) تک۔ (سورۃ واقعہ 75- 82)‏
صحیح مسلم : حدیث نمبر:234(73)

Post a Comment

 
Top