چھوڑو یار اس بار قربانی کیا کرنی:
..
یار جب سے ایدھی صاحب مرے ہیں...میرا تو دل ہی مر گیا ہے... انسانیت کا درد میرے دل میں ایسا ابھر کر سامنے آیا کہ میں خود حیران سا رہ گیا...مجھے علم نہ تھا میں اندر سے ایسا نرم مزاج ہوں....اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اس بار قربانی نہیں کرنی...یہی پیسے کسی غریب کو دینے ہیں......ہاں یار پچھلی بار بھی میں نے گائے میں حصہ ڈالا تھا...اکٹھے سات ہزار دئیے تھے...اب تو نو ، نو ہزار کے بینر لہرا رہے ہیں.....
باتوں کے بیچ میں ہی پرل کانٹی ںیںٹل کا دروازہ آ گیا...سورج ڈھل رہا تھا...وہ چاروں دوست "ہائی ٹی" کے واسطے وہاں آئے تھے... لوازمات بھری اس چائے کا بل پانچ ہزار کو چھو رہا تھا......اور اگر کھانا کھاتے تو دس تک جاتا
اس نے ڈیفنس کے اس مال کے سامنے کروڑ روپے کی ٹھنڈی ٹھار گاڑی سے نکلتے ہوۓ سوچا کہ انسانیت کا بھی زندگی میں کوئی حصہ ہونا چاہیے..اس کو فقیر کو دیکھتے ہوۓ کچھ شرم سی آ گئی...وہ nike کے جاگرز لینے یہاں رکا تھا...پرانا جوتا پچھلے ماہ ہی لیا تھا لیکن کچھ تنگ کر رہا تھا...وہ برانڈ سے کم پر رضی نہ ہوتا تھا..ستائیس ہزار کا جوتا اگلے مھیننے ہی لیتے ہوۓ وہ کچھ اترا رہا تھا....باہر اس کی نظر فقیر پر پڑی جس کا جوتا ٹوٹا ہوا تھا شائد ساڑھے ستائیس روپے کا رہا ہو گا....آگے پیچھے تو وہ اس کو دیکھ کر شائد ناک بند کر لیتا ....لیکن ایدھی صاحب ابھی نئے نئے ہی گئے تھے ...اس لیے اس کے اندر "انسانیت " کا درد دریائے راوی بن کے موجیں مار رہا تھا...سو اس نے سوچا کہ اس بار قربانی نہیں کرتے..اور " پندرہ" ہزار کا بکرا لینے کی بجائے اسی پیسے کے جوتے بانٹ دیتا ہوں
....اور کہانیاں سنیں گے؟؟؟؟؟
..ارے صاحب چھوڑئیے ...آپ بھی مڈل کلاسیے ہیں.... آپ کو ان چیزوں کے نرخ معلوم جو ہوں گے تو رات بھر جلتے رہیں گے...لیکن آپ پھر بھی اتنے " ڈھیٹ " ہیں کہ قربانی ضرور کریں گے...لیکن چلیے کہانیوں کو چھوڑیے.....مارکیٹ کو نکلتے ہیں....کچھ ہوٹل "وزٹ" کرتے ہیں....
کچھ "امپورٹڈ" دیکھئے..
. غریبو! ..میرے غریب بھائیو! یہ جو ہر منٹ بعد "زووں" کر کے گاڑی آپ کے پاس سے گذر جاتی ہے ...کالی کالی اور کبھی دودھ سی سفید جیپ نما..کروڑ دوکروڑ کے لگ بھگ ہوتی ہے...اور بکرا بیس ہزار کا.....ارمانی اور versace کے سوٹ (پینٹ، کوٹ) جو ہمارے اس طبقے میں اب عام سی بات ہوتی جا رہی ہے..لاکھ دو لاکھ کا معمولی بات ہے....
میرے غریب بھائیوں..قربانی کے شوقینو ! آپ کو صرف راڈو کا ہی پتہ ہے کہ مہنگی ہوتی ہے..لیکن یہ طبقہ جو ہمارے ملک کو چلا رہا ہے اور دانش ور جو ہماری جان کھا رہے ہیں اب راڈو پر گزارا نہیں کرتے...یہ اب frank mullur , balghari ، tag heuer سے کم پر راضی نہیں ہوتے... لاکھ روپے کی عینک...کئی لاکھ کا ہینڈ بیگ....مگر مچھ کی کھال کے جوتے...آپ کو یاد نہیں حنا ربانی کھر صاحبہ کا بیگ..؟
..لیکن انسانیت کا جب درد اٹھتا ہے تو جو شے ترک کرنے کا خیال آتا ہے وہ قربانی ہوتی ہے
..صرف لاہور میں چار فائیو سٹار ہوٹل ہیں....جہاں رات بھر کے قیام میں ایک بکرا آ جاتا ہے..لیکن ان کو کبھی یہاں بچت کرنے کا خیال نہیں آیا...نہ تب انسانیت کا درد جاگتا ہے...تب ایدھی صاحب کو بھی یہ گہری نیند سلا دیاتے ہیں ..اور مزے سے سویٹ روم لیتے ہیں اور ٹانگیں پسار کے دراز ہو جاتے ہیں
شادی پر دلہن کے میک اپ پر "دو سے تین بکرے " لگ جاتے ہیں....
اگر کسی "رقاصہ " یعنی فنکارہ کو بلا لیا جائے تو بکروں کا کوی حساب ہی نہیں
مہنگے سکول کی عمومی فیس پچیس ہزار سے پچاس ہزار ماہانہ تک جاتی ہے.... یعنی ان کا ایک بچہ مھینے کے دو سے تین بکرے تک کھا جاتا ہے
وہی سوٹ جو غریب ایک ہزار میں بنا لیتا ہے...اس پر ایک حرف" j " لکھا جاتا ہے تو ایک گائے کا حصہ کھا جاتا ہے اور گاہے بکرا بھی
لاہور میں پوش آبادیوں کا سلسلہ اب اتنا پھیل گیا ہے کہ شائد نصف شہر کو چھو جائے..یہی حال کراچی کا ہے..اسلام آباد کا تو ذکر ہی کیا....
یہ طبقہ جب بے تحاشا اخراجات کرتا ہے تو ....فلسفہ انسانیت بھول جاتا ہے...تب ان کے دل میں نہ کوئی درد اٹھتا ہے نہ روح بے چین ہوتی ہے..نہ کسی کے پھٹے جوتے دکھتے ہیں...لیکن قربانی کا موسم آتا ہے تو ....ان کے اندر کا مرا ہوا اور شائد سڑا ہو انسان بیدار ہو جاتا ہے...اور کفایت شعاری کا درس دینا شروع کر دیتے ہیں .........اور پھر قربانی کے پیسے بچا کر ...کچھ ہی دن میں ان پیسوں کو تقسیم کرنا بھی بھول جاتے ہیں
........................ابو بکر قدوسی

Post a Comment