بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔
اللہ رب العالمین کی توحید اللہ کو الوہئیت ، ربوبیت اور اسماء الصفات میں تنھا و یکتا تصور کرنا ہے ۔
" ملحدین کا اعتراض "
""ملحدین کا ماننا ہے کہ مسلمان بھی ہندئوں کی طرح پتھر سے بنے گھر کی عبادت کرتے ہیں۔ جس طرح ہندو مورتیوں کے سامنے جھکتا ہے ۔ ویسے ہیں مسلمان کعبہ کے سامنے جھکتے ہیں ۔ معاذ اللہ ۔ جس طرح ہندو مورتیوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں ویسے ہی مسلمان بھی اپنے اولیاء کے مزاروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں ۔ ""
جواب عرض ہے ۔
(1) کعبۃ اللہ بے شک پتھر سے بنی ایک عمارت ہے ۔ لیکن اس کی فضیلت یہ ہے کہ اس عمارت کی تعمیر اللہ کے جلیل قدر انبیاء کے ہاتھوں ہوئی ۔ جیسے سیدنا آدم علیہ السلام ، سیدنا ابراھیم علیہ السلام و سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور پھر خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے فرامین کے مطابق کسی ایک جگہ کسی بھی نبی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو بیت اللہ کعبۃ اللہ کو اپنا الہ ماننے کی دعوت دی ہو ؟؟
جبکہ اللہ کا قرآن اس بات پر واضح دلیل ہے کہ بیت اللہ ۔۔۔ اللہ کی عبادت کی جگہ ہے ۔ جہاں لوگ حج و عمرہ کے لیے جاتے ہیں ۔ اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے عبادات کو سر انجام دیتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (۹۶)
اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے (١) جو تمام دنیا کے لئے برکت اور ہدایت والا ہے۔
فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ
جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں مقام ابراہیم ہے اس میں جو آجائے امن والا ہو جاتا ہے۔
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس طرف کی راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے
وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (۹۷)
اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے) بلکہ) تمام دنیا سے بےپرواہ ہے ۔(سورۃ آل عمران)
۔۔۔۔۔۔
قرآن کا دوسرا مقام
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ ۚ
حج کے مہینے مقرر ہیں
فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ
اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کرلے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے
وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى ۚ
تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے
وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (۱۹۷)
اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔( سورۃ البقرۃ )
نوٹ : اللہ کی عبادت کا کوئی بھی طریقہ ہو اس کا مقصد صرف اور صرف اللہ کا ڈر ہے تقوی اور اس کی رضا ہے ۔ یہ کہنا کہ کعبہ کی عبادت کی جاتی ہے غلط ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔
قرآن کا تیسرا مقام ۔۔۔
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ
حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرو
فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ
ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالو (۱) اور سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے (۲)
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ
البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے
فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ
پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے
فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ
جسے طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی پر (۱) یہ پورے دس ہوگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (۱۹۶)
یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔(سورۃ البقرۃ )
نوٹ : کعبۃ اللہ کو مسجد حرام بھی کہا جاتا ہے ۔۔ اور مساجد کے متعلق اللہ نے کیا ارشاد فرمایا ہے ۔۔۔
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا(18)
اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔( سورۃ الجن )
کیا یہ دجل و فریب نہیں کہ یہ بات کی جائے کہ اللہ کی عبادت کی بجائے کعبۃ اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ؟؟؟؟
(2) ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ " بت بنائوں " کیونکہ " ایشور " مہا آتما کے رنگ میں بتوں میں موجود ہوتا ہے ۔ بدھ مت کو ماننے والوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ " بدھا " خدا کی صورت میں اپنی ہر مورتی میں بذریعہ " نروان " حلول کر جاتا ہے ۔۔۔ کیا قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی کسی صحیح حدیث میں یہ بات موجود ہے کہ " اللہ بذات خود مجسم و منور انداز میں بیت اللہ اور ہر مسجد میں موجود ہوتا ہے ؟ جس وجہ سے ہم اللہ کو وہاں جا کر پکار رہے ہوتے ہیں ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا پہلا مقام ۔۔۔
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ
وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو اسی نے کام پر لگا دیا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (۱۳)
یہی ہے اللہ (١) تم سب کا پالنے والا اسی کی سلطنت ہے۔ جنہیں تم اسکے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ (۲)
إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ
اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں (١) اور اگر (با لفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے
وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ
بلکہ قیامت کے دن تمہارے شریک اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے
وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (۱۴)
آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا ۔ (سورۃ الفاطر )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا دوسرا مقام ۔
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھہ روز میں پیدا کیا ہے (١) پھر عرش پر قائم ہوا (٢)
يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ
وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے
(3)
وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ
اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی
تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (۵۴)
خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔(سورۃ الاعراف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا تیسرا مقام ۔۔۔۔
تَنْزِيلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَى (۴)
اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمان کو پیدا کیا ہے۔
الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى (۵)
جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے۔
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَى (۶)
جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے (١)۔( سورۃ طہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا چوتھا مقام ۔۔۔
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ۔(۳۸:۵)
اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کر دیا یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے '
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندئوں اپنے خدائوں کے سامنے قربانی پیش کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے اس کا گوشت اور خون بھی ان تک ہنچتا ہے ۔
جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ صدقہ و خیرات قربانی و زکوٰۃ مادی اعتبار سے مخلوق خدا کا حق ہے ۔ جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور خشنودی حاصل کرنا ہے ۔ اور تقوی کے اعلی مرتبے کو پہنچنا ہے ۔ کیا یہ فرق اس بات کی تصدیق نہیں کہ مسلمان ہر کام اللہ کی رضا کے لیے اور مخلوق خدا کی بہتری کے لیے کرتے ہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کہتا ہے
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ۚ
اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے
كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ ۗ
اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارا مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو،
وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (۳۷)
اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔( سورۃ الحج )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(4) مسلمانوں کا ماننا ہے کہ مورتی بنانا اور پھر اس میں روح بھر دینا اللہ کا کام ہے ۔ کیونکہ اللہ صفت کے اعتبار سے مصور ہے ۔ اور خالق بھی ۔ جیسے سیدنا آدم علیہ السالم کی تخلیق کے مراحل ۔۔ انسان کی بنائی ہوئی مورتی نہ بول سکتی ہے ، نہ سن سکتی ہے ، کیا اللہ رب العزت نے چیلنج نہیں دیا مشرکوں کو کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکتے اور یہ بت کبھی بھی انسان کو فائدہ یا نقصان نہیں پیہنچا سکتے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا پہلا مقام ۔۔۔
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (۶۲)
اللہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہرچیز پر نگہبان ہے۔ (سورۃ الزمر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا دوسرا مقام ۔۔
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(۶)
وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتا ہے (١) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ (سورۃ آل عمران )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا تیسرا مقام ۔۔
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (۱۹۴)
واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جنکی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم جیسے ہی بندے ہیں (١) سو تم انکو پکارو پھر انکو چاہیے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن کا چوتھا مقام ۔۔
أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (۱۷)
تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کر سکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے ۔
(سورۃ النحل )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآں کا پانچواں مقام ۔۔۔۔۔
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (۲۰)
اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں ۔
أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (۲۱)
مردے ہیں زندہ نہیں (١) انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔(۲)
إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ۚ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (۲۲)
تم سب کا معبود صرف اللہ تعالیٰ اکیلا اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وہ خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں ۔( سورۃ النحل )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(5) کیا قرآن کی کسی آیت میں اور رسول اللہ ﷺ کے کسی فرمان میں یہ بات درج ہے کہ بیت اللہ کی عبادت کرو یہ تم پر الہ کی عبادت کرنے کی مانند ہے ؟ جبکہ اللہ نے اپنی کسی نشانی کو الہ نہیں بنایا صرف اور صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔ !!!
قرآن کا پہلا مقام ۔۔۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(21)
اے لوگوں اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ
جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی،
فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۲۲)
خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو ۔(سورۃ البقرہ )
ملحد جب بھی اللہ کی نشانیوں پر اعتراض کرے گا ۔ وہ قرآن و حدیث کو پڑھے بغیر کرے گا ۔۔۔ وہ اسلام کی مکمل معلومات نہیں رکھتا ۔ اور مسلمانوں کے ذہنوں اور دلوں میں صرف اور صرف انتشار پیدا کرتا ہے ۔ غلط مفاہیم اور مطالب بیان کر کے ۔ تاکہ مسلمان قرآن و سنت اور اللہ کی نشانیوں سے دور ہو کر اللہ کی عبادت سے بد ظن ہو جائیں ۔۔۔
لیکن راسخ العقیدہ اور علماء اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ اسلام پر ہر دور میں اعتراضات کیے گئے ہیں اور ہمیشہ یہ اعتراضات بے بنیاد ، جھوٹے اور من گھڑت ہی ہوئے ہیں ۔ اسی لیے اللہ کی رحمت سے علماء انکو ٹھیک ٹھیک جواب بھی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے آمین ۔۔
ازقلم :عبدالسلام فیصل

Post a Comment