GuidePedia

0
کہا جاتا ہے کہ تصویر ایک ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے لیکن بعض تصاویر اس سے بھی زیادہ پُر اثر ہوتی ہیں۔ اور جو تصویر یہاں لگائی گئی ہے وہ الفاظ اور جذبات کی کئی جلدیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

یہ ایک جیرالڈ Gerald نامی ہسپانوی عیسائی کمانڈر کے مجسمے کی تصویر ہے جا کا انتقال 1173ء میں ہوا۔ یہ مجسمہ آج بھی اپنی پوری شان و شوکت سے پرتگال(جوکہ کبھی اندولوسہ کا حصہ ہوا کرتا تھا) کے ایک چھوٹے سے شہر Evora میں ایستادہ ہے۔ یہ شخض اسپین کی مشہور عیسائی تحریک (Reconquista of Spain) یعنی جزیرہ نما اسپین کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے اور اسے دوبارہ عیسائی تسلط میں لینے کی تحریک کا نام ہے کا ایک مشہور سپاہی تھا جو کہ اپنی سفاکی اور درندگی کی وجہ سے آج بھی عیسائی دنیا میں ایک ہیرو کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس مجسمے کے ساتھ دو مسلمانوں کے کٹے سر بھی ہیں، ایک اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں فخر سے اٹھا رکھا ہے اور دوسرا اس کے پاؤں میں مٹی میں روندا ہوا پڑا ہے۔

اس تحریک کی داستان صدیوں پر محیط ہے جو کہ یورپ کے عیسائیوں نے مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کے خلاف چلائی اور مسلم عیسائی کشمکش کی تاریخ میں شاید عیسائیوں کا سب سے درخشاں اور مسلمانوں کا عبرتناک باب ہے۔ ویسے تو اس لڑائ میں عیسائیوں نے عسکری، معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی ہر حربہ اپنایا لیکن میڈیا اور نفسیاتی جنگ کے حوالے سے ایک نفسیاتی حربہ قابل ذکر ہے اور جس کا حوالہ ہماری عصری تاریخ میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اسپین کے پادریوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ شروع کیا جس کےتحت کوئی بھی ایک جذباتی عیسائی کسی قصبے یا شہر کے مرکزی بازار میں کھڑا ہوکر شانِ رسالت میں گستاخی کی جراءت کرتا، نتیجتاً مسلمان اسے مارتے اور پھر اس واقعے کو بنیاد بناکر عیسائی پادری، عیسائی آبادی کے جذبات سے کھیلتے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جاتے کہ مسلمان وحشی اور ظالم ہیں۔ یوں اس تحریک کو تقویت ملتی جاتی، جیسے آج کے دور میں فرانس میں چارلی ہیبڈو، کبھی ڈنمارک میں کارٹوں، کبھی برطانیہ میں سلمان رشدی وغیرہ آزادی اظہارِ رائے کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں اور اس پر مسلمانوں کے ردعمل کو پُرتشدد کہتے اور آزادی اظہار پرقدغن سے تعبیر کرتے ہیں اور عام عیسائی آبادیوں میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت اور خوف کے جذبات کے بیج بوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس تحریک کا انجام یہ ہوا کہ 750 برس اس جزیرہ نما (اسپین) پر حکومت کرنےکے بعد وہاں سے مسلمانوں کا نام و نشان تک بھی مٹ گیا۔ اس تحریک کو اسپین کی تاریخ میں Martyr of Cordoba کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔

کئی سو برس اسپین میں حکومت کرنے کے باوجود مسلمانوں کی وہاں سے بےدخلی کے متعدد اسباب ہیں جن میں اسلام کےاصولوں سےدوری، اخلاقی اور مالیاتی بدحالی کے ساتھ ساتھ اُس وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے دوری، نسلی اور فقہی بنیادوں پر آپس میں لڑائی، شادی بیاہ اور قریبی رفاقت میں اپنے اور غیر کی تمیز کا فرق ختم ہونا اور سب سے بڑھ کر مخالفین کے نفسیاتی جنگی حربوں کو نہ سمجھنا شامل ہے۔

ہمارے لیے لمحہء فرکریہ یہ ہے کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں اور اگر وہیں کھڑے رہے تو ہمارا کیا حشر ہوگا؟ جیرالڈ کا یہ مجسمہ بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ وماعلینا الاالبلاغ۔
میڈیا اور اسلام، از ڈاکٹر سید محمد انور، صفحہ نمبر 127 تا 129

Post a Comment

 
Top