''جواب شکوہ ''
قاری حنیف ڈار صاحب کی خدمت میں
محترم قاری حنیف ڈار عرف آفیشل محبان موم بتی و ترجمان لبرلز کی جانب سے بندہ ناچیز پر طنز سے بھر پور نشتر زنی کا جو مظاہرہ ہوا نہایت ادب و احترام کے ساتھ اس حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہونگا
سب سے پہلے ہم نفسیات کی رو سے جذباتی ربط کے کسی عمل پر ردعمل کی شدت کی وجوہات کو سمجھ لیں تو بات آسان ہوجائیگی
میری جو تحریر حنیف ڈار صاحب کے دل پر ضرب غضب بن کر پڑی ہے اس کے کچھ اقتباسات یہاں شیئر کرنا شاید سارے معاملے کے پس منظر کو اچھے سے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں اور حق یہی ہے کہ کسی بھی معاملے پر جب بات ہو تو اس کا ]پس منظر دیکھ لیا جائے تاکہ خرابی سے بچا جاسکے
اقتباس
(روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے نام نہاد دانشوران فیس بک سن لیں
جیسے تم ٹخنوں سے اوپر شلوار پر طنز کرکے اپنے تئیں خود کو دانشور خیال کرتے ہو
جیسے تم قران و حدیث کا بطور مذاق زکر کرتے ہو
جیسے تم دل پشوری کرنے کے لئے صحابہ کا تمسخر کرتے ہو
جیسے تم قران و حدیث کے جاننے والے کو جاہل اور صرف ایک زبان انگلش وہ بھی بگڑی ہوئی جاننے یا انگریزوں کی اترن پہننے پر خود کو عالم خیال کرتے ہو
جیسے تم لفظ مولوی گالی کے طور پر کہتے ہو
خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سارے عالم کی جان ھے
تم جو خود کو لبرل کہتے ہو میں اس لبرل لفظ کو ایسی گالی بنادونگا کہ تمہیں اپنی اولاد لبرل کہے تو تم انہیں گھر سے نکال دوگے )
حیا سے عاری مادر پدر آزاد نام نہاد روشن خیال و لبرلز طبقے کے ساتھ قاری صاحب کی دلی ہمدردی و جذباتی وابستگی کا یہ عالم شوق ہے کہ اس تحریر پرشدید تر جذباتی ردعمل دیتے ہوے وہ اپنے منصب تک کا خیال فراموش کرگئے اور اسقدر بازاری جملوں کی تخلیق پر آمادہ ذوق ہوۓ کہ خود ان کے گھر والے بھی اگر شرم ہو تو پڑھ کر شرما جائیں
اپنے مضمون کا آغاز ہی وہ جس عنوان سے فرماتے ہیں وہ تعصب جلن تنگ نظری و بد دماغی کا وہ عظیم شاہکار و شرمناک مظاہرہ ہے جو ہمیشہ سے نام نہاد لبرلز کا وطیرہ خاص رہا ہے
عنوان دیتے ہیں
'' اسلام کو خطرہ لبرلز سے نہیں
شدت پسندوں سے ھے ''
قاری صاحب ، مسلمان تو صرف اپنے واسطے سنت و فرائض کی پیروی میں شدت پسند ہوتا ہے
لیکن آپ کے محبوب لنڈے کے انگریز و ارتقا پزیر باندر لبرلز تو وہ نفسیاتی مخلوق ہے جو لوگوں کو ان کے بے ضرر مذہبی فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنا کر تسکین حاصل کرتے ہیں
شدت پسند کون ہوا ؟ وہ مسلمان جو اپنے لئے ایک ایسا عمل پسند کرے اور اس پر اصرار کرے جو دوسروں کیلئے قطعا'' بے ضرر بھی ہو یا وہ جو دوسروں کے ایسے بے ضرر اعمال پر گویا انگاروں پر لوٹتا ہو ؟
چلیں سمجھنے کو اسے آسان بناتے ہیں
ایک بندہ جو خود ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا پسند کرتا ہے وہ شدت پسند ہے یا وہ شخص جو اس ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنے والے کو جاہل قرار دیتا ہے ؟
ایک عورت جو خود اپنی مرضی سے سکارف لینا چاہتی ہے وہ شدت پسند ہے یا وہ لوگ جو اسکے سکارف کی وجہ سے اسے نفرت تضحیک و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ؟
جدید دور کے ان منافقین کا عجیب ہی کوئی قانون ہے کہ اگر کوئی ننگا پھرتا ہے تو پھرنے دیں یہ اسکا بنیادی حق ہے لیکن اگر کوئی پردہ کرنا چاہے تو اس سے معاشرے میں تفریق و انتشار کا خطرہ ہے
محترم قاری صاحب آپ اپنی تحریر میں فرماتے ہیں
'' آپ اپنی شلوار گھٹنوں تک لے جاؤ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں مگر کسی کے ٹخنے تاڑنے چھوڑ دو تو آپ لبرل ھو ''
اور میری تحریر اب بھی بغیر ایڈٹ ہوۓ میری وال پر موجود ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ
'' جیسے تم ٹخنوں سے اوپر شلوار پر طنز کرکے اپنے تئیں خود کو دانشور خیال کرتے ہو ''
تو جناب شدت پسند تو میں تب ہوتا جب میں انہیں یہ سب باتیں سناتے ہوۓ زبردستی ان کی شلواروں کو ان کے ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو کہتا لیکن نہیں میں تو اپنے ٹخنوں سے اوپر شلوار پر گھٹیا مذاق کرنے والوں کو برا بھلا کہہ رہا ہوں آخر کیوں آپ کو ان کی برائی سے تکلیف پہنچتی ہے ؟
کیا اسلئے کہ اسطرح آپ ان کی نظروں میں ''لبرل '' ثابت ہونگے اور یہ آپ سے راضی ہوجائینگے ؟
نہیں خدا کی قسم کبھی نہیں
آپ انہیں کسی صورت راضی نہیں کرسکتے اور یہ میں نہیں کہتا الله خود کہتا ہے
'' وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ''
تو جب تک آپ پوری طرح وہی عمل اختیار نہیں کرلیتے جو وہ کرتے ہیں اسطرح کی منافقانہ پالیسی سے آپ ان کے چند فیس بکی لایکس تو بے شک حاصل کرسکتے ہیں انہیں راضی کبھی نہیں کرسکتے یہاں تک کہ آپ سے ان کے ڈو مور کا تقاضہ آپ کو وہاں لاکھڑا کردے جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہ ہو
اور قاری صاحب آگے آپ مضمون میں مسلمانوں پر شدت پسندی مسلک پرستی کا جو پرزور اطلاق فرماتے ہوۓ انہیں کھوپڑیوں سے فٹبال کھیلنے والے اور فلسطین بوسنیا شام سمیت دنیا بھر میں فساد کی جڑ قرار دیتے ہیں وہ اپنی جگہ گھٹیا ترین پرخباثت چشم پوشی و منافقت سے مقدس الفاظ کا کیا گیا ایسا ریپ ہے جس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں
قاری صاحب ، انسانی تاریخ کی عظیم ترین انسانیت سوز ظالمانہ ایٹمی کاروائی بریلوی اور دیوبندی مسلک کے جنگی تناظر میں نہیں ہوئی تھی ، اور جو آپ کمال ڈھٹائی سے فلسطین کا نام اپنے اسی مضمون میں لیکر مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں ان کو دربدر و بے گھر بھی کسی فسادی مولوی کی شر انگیزی نے نہیں کیا جنہوں نے کیا اور جو کر رہے ہیں ان کا نام لینا تو آپ نے اندرون تھر کی ان عورتوں کی طرح خود پر حرام کیا ہوا ہے جو اپنے خاوند کا نام لینا گناہ کبیرہ خیال کرتی ہیں ، اور بوسنیا کا نام لیکر مسلمانوں کو استہزائیہ خطاب کرتے وقت اور کچھ نہیں تو اس ڈاڑھی سنت رسول کا کچھ لحاظ کرلیتے جو آپ نے چہرے پر شاید مجبورا بسلسلہ روزگار سہی سجا رکھی ہے
بوسنیا میں بے گناہ مسلم خاندانوں کی بڑی بڑی اجتماعی قبریں جو آج تک دریافت ہوتی آرہی ہیں ان قبروں کیلئے بھی ذمہ دار آپ کو خود مسلمان ہی ملے ؟
میں نے بے وجہ تو نہیں لکھا کہ ہر منافق لبرل نہیں ہوتا لیکن ہر لبرل ضرور منافق ہوتا ہے
محترم مجھے لبرل کی کتابی ڈیفینیشن سے بہلانے کی کوشش مت کیجئے کیوں کہ اگر آپ مسلمانوں میں چند لوگوں کے غلط ہونے سے پوری مسلم برادری پر تنقید کا حق رکھتے ہیں تو میں ایک دو بمشکل اچھے لبرل کو چھوڑ کر تمام کے تمام منافقین کی پر خباثت منافقت کو بیان کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں
اور آخر کس منہ سے آپ شدت پسندی کا الزام دھرتے ہیں ؟
باقاعدہ خصوصیات کے ساتھ بیان کیے گئے بے حیا لوگوں پر تنقید آپ کو اسقدر مشتعل کردیتی ہے کہ آپ تحریر فرماتے ہیں
'' لبرلز اگر اپنی بیٹیوں کو پڑھا کر ڈاکٹر نہ بنائیں تو آپ کی خواتین کی بواسیر کے آپریشن بھی مرد کریں اور کرتے آئے ھیں ''
بواسیر کا مطلب تو آپ سمجھتے ہونگے اور اسکے علاج سے بھی واقف رہے ہونگے آخر ایسی بھی کیا تکلیف آپ کو پہنچی کہ آپ مجھے مخاطب کرتے ہوۓ یہ الفاظ لکھنے پر ہوگئے ؟ اور مجھے بتائیں کب اور کہاں میں نے لکھا ہے کہ اپنی بچیوں کو تعلیم دینا بے حیائی کی بات ہے ؟ کب اور کہاں میں نے بیان کیا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم دینے والوں کو لبرل کہتے ہیں اور وہ بھی وہ لبرل جنھیں میں بے غیریت قرار دیتا ہوں ؟
کیا آپ کہیں بھی میری کسی بھی تحریر سے یہ ثابت کرسکتے ہیں ؟
آخر وہ کیا مجبوریاں ہیں جنہوں نے آپ کو مجھہ پر ایسے بہتان باندھنے کیلئے مجبور کیا ؟
مزید پھر آپ میری اس بات پر .............. کہ '' روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے نام نہاد دانشوران فیس بک سن لیں '' فرماتے ہیں
'' سارا گھر کا خرچ حضرت خدیجہ چلاتی تھیں اور اللہ پاک نے نبئ کریم ﷺ پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کا احسان جتلایا ھے " ووجدک عائلاً فاغنی " اللہ نے آپ کو تنگدست پایا تو غنی کر دیا ، یہ حضرت خدیجہؓ کے مال سے غنا ملا تھا ''
قاری صاحب پشتو کی ایک کہاوت کے مطابق کاش شرم کوئی ڈھول ہوتا تو میں اسے کسی بے شرم کے گلے ڈال آتا کیا آپ اسقدر معصوم ہیں یا پھر واقعی ایسی ذہنی سطح رکھتے ہیں کہ '' روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے '' جملے کا مطلب سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ؟ جو آپ میرے اس جملے کے رد میں اماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر یوں نا مناسب طور پر کھینچ لائے ؟
پوری تحریر میں آپ شدید تر احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں
لکھتے ہیں
'' خون کی ایک بوتل کی تین بوتل بنا کر ھم بیچتے ھیں ،
سڑکوں سے مرے ھوئے گدھے اور کتے اٹھا کر چربی نکال کر اسلام آباد سے کراچی تک سپلائی ھم کرتےھیں ،
گدھے اور کتے کا گوشت بکتا ھے ،
جعلی دوائیاں ھم بناتے ھیں ،
گٹر سے چربی نکال کر صابن بناتے ھیں ''
اپنے معاشرے کی عام خرابیوں اور برائیوں کو اسلام اور مسلمانوں پر یوں فرد جرم بنا کر پڑھتے چلے گئے کہ آپ کیلئے غصے کے بجائے ہمدردی کے جذبات دل میں محسوس کئے
گویا آپ کے نزد باقی دنیا کے کسی ملک میں کوئی جرم نہیں ہوتا یا کہیں کوئی بے ایمان و بے ضمیر لوگ نہیں رہتے یہ صرف ہمارے ملک کا اعجاز ہے
حیرت آپ کی اپروچ پر، افسوس آپ کی سوچ پر
اور اس سوچ پر افسوس کیوں نہ ہو کہ بیمار ذہنیت کے بدبودار اظہار کی بات تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی
آپ جو اپنی اسی تحریر میں فرماتے ہیں کہ
'' رہ گئے بچے تو وہ مسجد اور مدرسے میں عزت گنوا آتے ھیں ''
نہایت سنجیدگی خلوص و ہمدردی کے ساتھ بصد معزرت عرض کرنا چاہونگا کہ مجھے امید ہے آپ جیسا '' سنجیدہ '' علمی شخص یقینا بغیر تجربے کے مدارس پر ایسا بہتان نہیں باندھ سکتا تو اگر آپ کے ساتھ بچپن میں گاؤں کے کسی ازلی کنوارے سپارے پڑھانے والے مولبی صاحب نے ایسی کوئی زیادتی کی بھی ہے تو بھی آپ کو اسے سب مدارس کے ساتھ عمومی طور پر نہیں جوڑنا چاہئے یہ قطعا'' نا انصافی پر مشتمل ایک غیر مناسب عمل ہوگا
خیر آپ نے تضادات سے بھرپور اپنی اس شاہکار متعصب تحریر میں ایک بات بہت خوب لکھی ہے کہ
'' اسلام کسی کی جاگیر نہیں کہ جو بھی چار انگل بال بڑھا لے گا اسلام اس کے نام رجستڑد ھو جائے گا اور وہ جس طرح چاھے اسلام کی عصمت دری کرتا رھے گا ''
محترم قاری صاحب ، گزارش ہے اپنے اس قول کو صرف فیس بک وال کی زینت نہ بنائیں اسے عملی طور پر خود پر بھی نافذ کریں اور جو آپ نے دین کی ٹھکیداری کا منصب اپنے تئیں خود پر لاد کر موجودہ اور گزرے ہوۓ لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے اپنے اختیار میں رکھے ہیں اس سے گریز فرمائیں
آپ نے جو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ارتقا پزیر باندروں کی ہمدردی میں جذبات سے مغلوب ہوکر مجھے شدت پسند قرار دیتے ہوۓ عام مسلم و پاکستانیوں پر طنز کے تیر پھینکے ہیں تو آپ ہی کے طرز پر آپ کیلئے عربی کا ایک مقولہ پیش کرتا ہوں
رمتني بدائھا وانسلت
اور
لیس الخبر کالمعاینہ
امید کرتا ہوں آئندہ آپ صرف محبان موم بتی کی '' فریادی خبر '' پر تحاریر میں سے اپنے مطلب کے معنی برآمد کرنے کی روش پر نظر ثانی فرماکر ٹو ڈی پوائنٹ مکالمے کے درست طریقے کو اختیار کرنا پسند فرمائیں
شکریہ
سکندر حیات بابا
قاری حنیف ڈار صاحب کی خدمت میں
محترم قاری حنیف ڈار عرف آفیشل محبان موم بتی و ترجمان لبرلز کی جانب سے بندہ ناچیز پر طنز سے بھر پور نشتر زنی کا جو مظاہرہ ہوا نہایت ادب و احترام کے ساتھ اس حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہونگا
سب سے پہلے ہم نفسیات کی رو سے جذباتی ربط کے کسی عمل پر ردعمل کی شدت کی وجوہات کو سمجھ لیں تو بات آسان ہوجائیگی
میری جو تحریر حنیف ڈار صاحب کے دل پر ضرب غضب بن کر پڑی ہے اس کے کچھ اقتباسات یہاں شیئر کرنا شاید سارے معاملے کے پس منظر کو اچھے سے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں اور حق یہی ہے کہ کسی بھی معاملے پر جب بات ہو تو اس کا ]پس منظر دیکھ لیا جائے تاکہ خرابی سے بچا جاسکے
اقتباس
(روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے نام نہاد دانشوران فیس بک سن لیں
جیسے تم ٹخنوں سے اوپر شلوار پر طنز کرکے اپنے تئیں خود کو دانشور خیال کرتے ہو
جیسے تم قران و حدیث کا بطور مذاق زکر کرتے ہو
جیسے تم دل پشوری کرنے کے لئے صحابہ کا تمسخر کرتے ہو
جیسے تم قران و حدیث کے جاننے والے کو جاہل اور صرف ایک زبان انگلش وہ بھی بگڑی ہوئی جاننے یا انگریزوں کی اترن پہننے پر خود کو عالم خیال کرتے ہو
جیسے تم لفظ مولوی گالی کے طور پر کہتے ہو
خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سارے عالم کی جان ھے
تم جو خود کو لبرل کہتے ہو میں اس لبرل لفظ کو ایسی گالی بنادونگا کہ تمہیں اپنی اولاد لبرل کہے تو تم انہیں گھر سے نکال دوگے )
حیا سے عاری مادر پدر آزاد نام نہاد روشن خیال و لبرلز طبقے کے ساتھ قاری صاحب کی دلی ہمدردی و جذباتی وابستگی کا یہ عالم شوق ہے کہ اس تحریر پرشدید تر جذباتی ردعمل دیتے ہوے وہ اپنے منصب تک کا خیال فراموش کرگئے اور اسقدر بازاری جملوں کی تخلیق پر آمادہ ذوق ہوۓ کہ خود ان کے گھر والے بھی اگر شرم ہو تو پڑھ کر شرما جائیں
اپنے مضمون کا آغاز ہی وہ جس عنوان سے فرماتے ہیں وہ تعصب جلن تنگ نظری و بد دماغی کا وہ عظیم شاہکار و شرمناک مظاہرہ ہے جو ہمیشہ سے نام نہاد لبرلز کا وطیرہ خاص رہا ہے
عنوان دیتے ہیں
'' اسلام کو خطرہ لبرلز سے نہیں
شدت پسندوں سے ھے ''
قاری صاحب ، مسلمان تو صرف اپنے واسطے سنت و فرائض کی پیروی میں شدت پسند ہوتا ہے
لیکن آپ کے محبوب لنڈے کے انگریز و ارتقا پزیر باندر لبرلز تو وہ نفسیاتی مخلوق ہے جو لوگوں کو ان کے بے ضرر مذہبی فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنا کر تسکین حاصل کرتے ہیں
شدت پسند کون ہوا ؟ وہ مسلمان جو اپنے لئے ایک ایسا عمل پسند کرے اور اس پر اصرار کرے جو دوسروں کیلئے قطعا'' بے ضرر بھی ہو یا وہ جو دوسروں کے ایسے بے ضرر اعمال پر گویا انگاروں پر لوٹتا ہو ؟
چلیں سمجھنے کو اسے آسان بناتے ہیں
ایک بندہ جو خود ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا پسند کرتا ہے وہ شدت پسند ہے یا وہ شخص جو اس ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنے والے کو جاہل قرار دیتا ہے ؟
ایک عورت جو خود اپنی مرضی سے سکارف لینا چاہتی ہے وہ شدت پسند ہے یا وہ لوگ جو اسکے سکارف کی وجہ سے اسے نفرت تضحیک و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ؟
جدید دور کے ان منافقین کا عجیب ہی کوئی قانون ہے کہ اگر کوئی ننگا پھرتا ہے تو پھرنے دیں یہ اسکا بنیادی حق ہے لیکن اگر کوئی پردہ کرنا چاہے تو اس سے معاشرے میں تفریق و انتشار کا خطرہ ہے
محترم قاری صاحب آپ اپنی تحریر میں فرماتے ہیں
'' آپ اپنی شلوار گھٹنوں تک لے جاؤ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں مگر کسی کے ٹخنے تاڑنے چھوڑ دو تو آپ لبرل ھو ''
اور میری تحریر اب بھی بغیر ایڈٹ ہوۓ میری وال پر موجود ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ
'' جیسے تم ٹخنوں سے اوپر شلوار پر طنز کرکے اپنے تئیں خود کو دانشور خیال کرتے ہو ''
تو جناب شدت پسند تو میں تب ہوتا جب میں انہیں یہ سب باتیں سناتے ہوۓ زبردستی ان کی شلواروں کو ان کے ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو کہتا لیکن نہیں میں تو اپنے ٹخنوں سے اوپر شلوار پر گھٹیا مذاق کرنے والوں کو برا بھلا کہہ رہا ہوں آخر کیوں آپ کو ان کی برائی سے تکلیف پہنچتی ہے ؟
کیا اسلئے کہ اسطرح آپ ان کی نظروں میں ''لبرل '' ثابت ہونگے اور یہ آپ سے راضی ہوجائینگے ؟
نہیں خدا کی قسم کبھی نہیں
آپ انہیں کسی صورت راضی نہیں کرسکتے اور یہ میں نہیں کہتا الله خود کہتا ہے
'' وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ''
تو جب تک آپ پوری طرح وہی عمل اختیار نہیں کرلیتے جو وہ کرتے ہیں اسطرح کی منافقانہ پالیسی سے آپ ان کے چند فیس بکی لایکس تو بے شک حاصل کرسکتے ہیں انہیں راضی کبھی نہیں کرسکتے یہاں تک کہ آپ سے ان کے ڈو مور کا تقاضہ آپ کو وہاں لاکھڑا کردے جہاں سے واپسی کی کوئی راہ نہ ہو
اور قاری صاحب آگے آپ مضمون میں مسلمانوں پر شدت پسندی مسلک پرستی کا جو پرزور اطلاق فرماتے ہوۓ انہیں کھوپڑیوں سے فٹبال کھیلنے والے اور فلسطین بوسنیا شام سمیت دنیا بھر میں فساد کی جڑ قرار دیتے ہیں وہ اپنی جگہ گھٹیا ترین پرخباثت چشم پوشی و منافقت سے مقدس الفاظ کا کیا گیا ایسا ریپ ہے جس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں
قاری صاحب ، انسانی تاریخ کی عظیم ترین انسانیت سوز ظالمانہ ایٹمی کاروائی بریلوی اور دیوبندی مسلک کے جنگی تناظر میں نہیں ہوئی تھی ، اور جو آپ کمال ڈھٹائی سے فلسطین کا نام اپنے اسی مضمون میں لیکر مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں ان کو دربدر و بے گھر بھی کسی فسادی مولوی کی شر انگیزی نے نہیں کیا جنہوں نے کیا اور جو کر رہے ہیں ان کا نام لینا تو آپ نے اندرون تھر کی ان عورتوں کی طرح خود پر حرام کیا ہوا ہے جو اپنے خاوند کا نام لینا گناہ کبیرہ خیال کرتی ہیں ، اور بوسنیا کا نام لیکر مسلمانوں کو استہزائیہ خطاب کرتے وقت اور کچھ نہیں تو اس ڈاڑھی سنت رسول کا کچھ لحاظ کرلیتے جو آپ نے چہرے پر شاید مجبورا بسلسلہ روزگار سہی سجا رکھی ہے
بوسنیا میں بے گناہ مسلم خاندانوں کی بڑی بڑی اجتماعی قبریں جو آج تک دریافت ہوتی آرہی ہیں ان قبروں کیلئے بھی ذمہ دار آپ کو خود مسلمان ہی ملے ؟
میں نے بے وجہ تو نہیں لکھا کہ ہر منافق لبرل نہیں ہوتا لیکن ہر لبرل ضرور منافق ہوتا ہے
محترم مجھے لبرل کی کتابی ڈیفینیشن سے بہلانے کی کوشش مت کیجئے کیوں کہ اگر آپ مسلمانوں میں چند لوگوں کے غلط ہونے سے پوری مسلم برادری پر تنقید کا حق رکھتے ہیں تو میں ایک دو بمشکل اچھے لبرل کو چھوڑ کر تمام کے تمام منافقین کی پر خباثت منافقت کو بیان کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں
اور آخر کس منہ سے آپ شدت پسندی کا الزام دھرتے ہیں ؟
باقاعدہ خصوصیات کے ساتھ بیان کیے گئے بے حیا لوگوں پر تنقید آپ کو اسقدر مشتعل کردیتی ہے کہ آپ تحریر فرماتے ہیں
'' لبرلز اگر اپنی بیٹیوں کو پڑھا کر ڈاکٹر نہ بنائیں تو آپ کی خواتین کی بواسیر کے آپریشن بھی مرد کریں اور کرتے آئے ھیں ''
بواسیر کا مطلب تو آپ سمجھتے ہونگے اور اسکے علاج سے بھی واقف رہے ہونگے آخر ایسی بھی کیا تکلیف آپ کو پہنچی کہ آپ مجھے مخاطب کرتے ہوۓ یہ الفاظ لکھنے پر ہوگئے ؟ اور مجھے بتائیں کب اور کہاں میں نے لکھا ہے کہ اپنی بچیوں کو تعلیم دینا بے حیائی کی بات ہے ؟ کب اور کہاں میں نے بیان کیا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم دینے والوں کو لبرل کہتے ہیں اور وہ بھی وہ لبرل جنھیں میں بے غیریت قرار دیتا ہوں ؟
کیا آپ کہیں بھی میری کسی بھی تحریر سے یہ ثابت کرسکتے ہیں ؟
آخر وہ کیا مجبوریاں ہیں جنہوں نے آپ کو مجھہ پر ایسے بہتان باندھنے کیلئے مجبور کیا ؟
مزید پھر آپ میری اس بات پر .............. کہ '' روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے نام نہاد دانشوران فیس بک سن لیں '' فرماتے ہیں
'' سارا گھر کا خرچ حضرت خدیجہ چلاتی تھیں اور اللہ پاک نے نبئ کریم ﷺ پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کا احسان جتلایا ھے " ووجدک عائلاً فاغنی " اللہ نے آپ کو تنگدست پایا تو غنی کر دیا ، یہ حضرت خدیجہؓ کے مال سے غنا ملا تھا ''
قاری صاحب پشتو کی ایک کہاوت کے مطابق کاش شرم کوئی ڈھول ہوتا تو میں اسے کسی بے شرم کے گلے ڈال آتا کیا آپ اسقدر معصوم ہیں یا پھر واقعی ایسی ذہنی سطح رکھتے ہیں کہ '' روشن خیالی کے نام پر بیوی کی کمائی کھانے والے '' جملے کا مطلب سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ؟ جو آپ میرے اس جملے کے رد میں اماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر یوں نا مناسب طور پر کھینچ لائے ؟
پوری تحریر میں آپ شدید تر احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں
لکھتے ہیں
'' خون کی ایک بوتل کی تین بوتل بنا کر ھم بیچتے ھیں ،
سڑکوں سے مرے ھوئے گدھے اور کتے اٹھا کر چربی نکال کر اسلام آباد سے کراچی تک سپلائی ھم کرتےھیں ،
گدھے اور کتے کا گوشت بکتا ھے ،
جعلی دوائیاں ھم بناتے ھیں ،
گٹر سے چربی نکال کر صابن بناتے ھیں ''
اپنے معاشرے کی عام خرابیوں اور برائیوں کو اسلام اور مسلمانوں پر یوں فرد جرم بنا کر پڑھتے چلے گئے کہ آپ کیلئے غصے کے بجائے ہمدردی کے جذبات دل میں محسوس کئے
گویا آپ کے نزد باقی دنیا کے کسی ملک میں کوئی جرم نہیں ہوتا یا کہیں کوئی بے ایمان و بے ضمیر لوگ نہیں رہتے یہ صرف ہمارے ملک کا اعجاز ہے
حیرت آپ کی اپروچ پر، افسوس آپ کی سوچ پر
اور اس سوچ پر افسوس کیوں نہ ہو کہ بیمار ذہنیت کے بدبودار اظہار کی بات تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی
آپ جو اپنی اسی تحریر میں فرماتے ہیں کہ
'' رہ گئے بچے تو وہ مسجد اور مدرسے میں عزت گنوا آتے ھیں ''
نہایت سنجیدگی خلوص و ہمدردی کے ساتھ بصد معزرت عرض کرنا چاہونگا کہ مجھے امید ہے آپ جیسا '' سنجیدہ '' علمی شخص یقینا بغیر تجربے کے مدارس پر ایسا بہتان نہیں باندھ سکتا تو اگر آپ کے ساتھ بچپن میں گاؤں کے کسی ازلی کنوارے سپارے پڑھانے والے مولبی صاحب نے ایسی کوئی زیادتی کی بھی ہے تو بھی آپ کو اسے سب مدارس کے ساتھ عمومی طور پر نہیں جوڑنا چاہئے یہ قطعا'' نا انصافی پر مشتمل ایک غیر مناسب عمل ہوگا
خیر آپ نے تضادات سے بھرپور اپنی اس شاہکار متعصب تحریر میں ایک بات بہت خوب لکھی ہے کہ
'' اسلام کسی کی جاگیر نہیں کہ جو بھی چار انگل بال بڑھا لے گا اسلام اس کے نام رجستڑد ھو جائے گا اور وہ جس طرح چاھے اسلام کی عصمت دری کرتا رھے گا ''
محترم قاری صاحب ، گزارش ہے اپنے اس قول کو صرف فیس بک وال کی زینت نہ بنائیں اسے عملی طور پر خود پر بھی نافذ کریں اور جو آپ نے دین کی ٹھکیداری کا منصب اپنے تئیں خود پر لاد کر موجودہ اور گزرے ہوۓ لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے اپنے اختیار میں رکھے ہیں اس سے گریز فرمائیں
آپ نے جو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ارتقا پزیر باندروں کی ہمدردی میں جذبات سے مغلوب ہوکر مجھے شدت پسند قرار دیتے ہوۓ عام مسلم و پاکستانیوں پر طنز کے تیر پھینکے ہیں تو آپ ہی کے طرز پر آپ کیلئے عربی کا ایک مقولہ پیش کرتا ہوں
رمتني بدائھا وانسلت
اور
لیس الخبر کالمعاینہ
امید کرتا ہوں آئندہ آپ صرف محبان موم بتی کی '' فریادی خبر '' پر تحاریر میں سے اپنے مطلب کے معنی برآمد کرنے کی روش پر نظر ثانی فرماکر ٹو ڈی پوائنٹ مکالمے کے درست طریقے کو اختیار کرنا پسند فرمائیں
شکریہ
سکندر حیات بابا

Post a Comment