بھینس کی قربانی۔قرآن وحد یث کی نظرمیں۔کیسی ھے؟}
اللہ تعالى کا ارشاد ہے :
أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ
الأنعام :1
تمہارے لیے تمام ترچرنےوالے جانورحلال ہیں۔ماسواان جانور وں کےجوتمہیں بتادیےگئے ہیں۔
لہذااللہ عزوجل۔کےفرمان کے مطابق یہ بھی حلال جانوروں میں شامل ھے۔حرام جانوروں کا یاتوکتاب وسنت میں نام لےکر انہیں حرام قراردیاگیایاپھریہ عمومی قاعدہ بیان کیاگیاھے :
أبو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ھے۔نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل كل ذي ناب
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہر کچلی والےجانورکھانےسےمنع فرمایاھے(صحیح بخاری: 5530
بھینس کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں۔ھے۔لہذااسکےحلال ھونےپر کوئی شک وشبہہ نہیں۔کیونکہ حرام جانوروں کے بارہ میں اللہ تعالى نےفرمادیاھے کہ حرام صرف وہ ہیں۔جنکےبارہ میں بتا دیاگیاھےجوبھینس کی حرمت کا دعویدارھے اس پر دلیل واجب ھےالبتہ بھینس کی قربانی کرنا درست نہیں۔ھے۔کیونکہ قربانی کےجانوراللہ تعالى نے۔مخصوص ۔متعین فرمائے ہیں:
‹وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۰ۭ›
اورھم نےہرامت کے لیےقربانی کی جگہ مقررکی تاکہ جومویشی جانوراللہ نے ان کودیئےہیں ان پر اللہ کا نام ذکرکریں[الحج:34]
اس آیت میں قربانی کے جانور بھیمۃ الأنعام مقررکیےگئےہیں۔ اوربھیمۃ الأنعام کی وضاحت خوداللہ تعالیٰ نےفرمائی۔ھے:
اور’’انعام‘‘(چوپایوں)میں سے بوجھ اٹھانےوالے اور کچھ زمین سےلگےھوئے۔کھاؤاس میں سے جواللہ نےتمھیں رزق دیااور شیطان کے قدموں کےپیچھے نہ چلو،یقیناًوہ تمھاراکھلادشمن ھے۔ آٹھ اقسام،بھیڑمیں سےدواور بکری میں سےدو،کہہ دیجئےکیا اس نےدونوں نرحرام کیے یادونو ں مادہ یاوہ جس پرددنوں ماداؤ ں کےرحم لپٹے ہوئےہی؟مجھے کسی علم کےساتھ بتاؤ،اگرتم سچےھو۔اوراونٹوں میں سےدو اورگائیوں میں سےدو۔۔۔۔۔الخ [الأنعام: 144– 142]
ان آٹھ جانوروں
(1؛2بکری نرومادہ)
(3؛4بھیڑ نرومادہ)
5؛6اونٹ نرو مادہ)
7؛8گائے نرومادہ)
کے علاوہ دیگر حلال جانور (پالتو ھویاغیرپالتو)کی قربانی کتاب وسنت سےثابت نہیں۔لہٰذابھینس یابھینسے کی قربانی درست۔نہیں قربانی ان جانوروں کی دی جائے جن کی قربانی رسول اللہﷺ کے قول وعمل و تقریر سےثابت ھے

Post a Comment