GuidePedia

0

اکیس ستمبر اٹھارہ سو ستاون کو انگریزی فوج دلی میں داخل ہوئی تھی . جو 'کارنامے' اس فوج نے سرانجام دیے اس میں سب سے پہلا تو قتل عام تھا چناچہ مسلمانوں کا دلی سے نام و نشان مٹانے کے لیے انتہائی بے رحم قتل عام کیا گیا . اس کے بعد کمیشن بیٹھا جو 'باغیوں' کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پھانسیوں پر چڑھا رہا تھا . چوکوں پر پھانسی گھر بنائے گئے اور پانچ پانچ یا چھ چھ آدمیوں کو روزانہ سزائے موت دی جاتی تھی۔ رابرٹ وال پول ، جو ایک برطانوی فوجی افسر تھا ، لکھتا ہے کے دلی میں تین ہزار آدمیوں کو پھانسی دی گئی، جن میں سے انتیس شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے. وحشی انگریزوں نے، کم از کم ستائیس ہزار مسلمان قتل کیے اور سات دن تک برابر قتل جاری رکھا ، زندہ مسلمانوں کو سور کی کھال میں سلوا کر گرم تیل کے کڑھاؤ ڈلوانا اور فتح پور کی مسجد سے قلعہ کے دروازے تک درختوں کی شاخوں پر مسلمانوں کی لاشوں کا لٹکانا ، یہ سب کچھ کیا گیا۔ اس بربادی کا نتیجہ یہ نکلا کے ، دلی جو کے تاریخی طور پر ایک مسلم شہر تھا ، اس میں صرف دس فیصد مسلمان ہی رہ گئے .
شہر میں جو بربادی مسلمانوں پر ائی ، اسکا (شاید) واحد ماخذ غالب کا روزنامچہ اور خطوط ہیں . غالب کا کوچہ ، غارت گری سے بچا رہا تھا ، چناچہ حکیم غلام نجف کو لکھتے ہیں :
’’میاں حقیقت حال اس سے زیادہ نہیں کہ اب تک جیتا ہوں ۔ بھاگ نہیں گیا۔ نکالا نہیں گیا۔ کسی محکمے میں اب تک بلایا نہیں گیا۔ معرض باز پرس میں نہیں آیا۔ آئندہ دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔‘‘
ایک اور کو لکھا : ’’جو دم ہے غنیمت ہے ۔ اس وقت تک مع عیال واطفال جیتا ہوں ۔ بعد گھڑی بھر کے کیا ہو کچھ معلوم نہیں ۔ قلم ہاتھ میں لیئے بہت کچھ لکھنے کو جی چاہتا ہے ۔ مگر لکھ نہیں سکتا۔ اگر مل بیٹھنا قسمت میں ہے تو کہہ لیں گے ورنہ انا لللہ وانا الیہ راجعون ۔‘‘
غالب کا ہی ایک مصرعہ ہے جو دلی میں مسلمانوں کی بربادی کی داستان سناتا ہے ... کہتے ہیں :

شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک تشنہ خوں ہے ہر مسلمان کا

Post a Comment

 
Top