GuidePedia

0


لبرل مولوی صاحب ...............اور گوبر بھرا ٹفن
میں سکندر حیات بابا کو نہیں جانتا تھا..لیکن آج سالم فریادی محترم نے ایک پوسٹ شیر کی تو معلوم ہوا..میرے "مولوی" صاحب نے پھر نیا چن چڑھا دیا ہے...مولوی صاحب کو اگر طبقہ دینیہ کا "حسن نثار" کہہ لیا جائے تو بے جا نہ ہو گا.....
. مولانا حنیف ڈارصاحب ہمہ وقت کوئی نا کوئی ایسی بات کرتے رهتے ہیں کہ "خبروں میں ان " رہتے ہیں.....اگلے روز میں اردو بازار جا رہا تھا اور ٹریفک بری طرح جام تھا...بیچ کی گرین بیلٹ میں ایک "مجنون" جس کو آپ سہولت کے لیے پاگل بھی کہہ سکتے ہیں قمیص اتارے قہقہے لگا رہا تھا... شلوار اس نے پہنی ہوئی تھی ....لیکن ازار بند ہاتھ میں تھامے گاہے نیچے کر لیتا.....پاگل جو تھا ...لیکن خبروں میں "ان" ہونے کا فن جانتا تھا...سو راہ چلتی شریف بیبیاں تو آنکھیں چرا رہی تھیں...لڑکے بالے مسکرا رہے تھے..میرے جیسے حکومت کو کوس رہے تھے کہ اس کا مقام پاگل خانہ تھا ..لیکن کوئی حکومت ہو تو انتظام کرے.... آج اندازہ ہوا کہ امارات کی حکومت بھی ہمارے جیسی ہی ہے...کہ کوئی انتظام نہیں..اور "مفکر" صاحب گرین بیلٹ میں کھڑے "خبروں میں ان " رہنے کا شوق پورا کر رہے ہیں
اہل مذھب پر ہر وقت اور صبح دوپہر شام کسی ڈاکٹر کے نسخے کی طرح تنقید کرنا ...یقینا ماضی کے کسی حادثے کی خبر دیتا ہے...لیکن حضور کیا سب ہی آپ کی نگاہ میں برے ہیں ؟
مولانا صاحب نے اپنی تحریر میں اخلاق کی ایک بات کی ہے ذرا ان کا اقتباس پڑھیے:
.....
"ھارون رشید کے پاس اسکندر حیات بابا کے اسلاف میں سے کوئی آیا اور نہایت تلخ انداز میں نصیحت شروع کی جس پر ھارون رشید نے اسے ڈانٹ دیا کہ ، اللہ نے تم سے زیادہ نیک رسولوں کو مجھ سے زیادہ گنہگار فرعون کے پاس بھیجا تھا اور نصیحت کی تھی کہ اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کرنا ، نہ تم ان سے زیادہ نیک ھو اور نہ میں فرعون سے زیادہ گنہگار اپنا لہجہ درست کرو یا یہاں سے خیریت کے ساتھ نکل جاؤ اور تقوے کی یہ گرد باھر جا کر جھاڑو ،
....
لیجئے اب ذرا اخلاق بھری اس نصیحت کے بعد موصوف کی تحریر سے کچھ اقتباس دیکھئے کہ موصوف کا اپنا اخلاق کیا ہے؟
....
اسلام کسی کی جاگیر نہیں کہ جو بھی چار انگل بال بڑھا لے گا اسلام اس کے نام رجستڑد ھو جائے گا اور وہ جس طرح چاھے اسلام کی عصمت دری کرتا رھے گا
لبرلز اگر اپنی بیٹیوں کو پڑھا کر ڈاکٹر نہ بنائیں تو آپ کی خواتین کی بواسیر کے آپریشن بھی مرد کریں اور کرتے آئے ھیں ،
..........
پڑھا آپ نے ؟.....
اگلے روز انہی مولوی صاحب کی ایک پوسٹ ابو یحیی نور پوری صاحب نے بھیجی جس میں حدیث کہ جس میں عورت کو خوش بو لگا کے باھر جانے سے منع کیا گیا ہے....کا خوب مذاق بنایا گیا ... لکھتے ہیں کہ :
"اگر عورت خوشبو لگائے اور اس کو اچانک باھر جانا پڑے تو کیا کرے"...
موصوف کہتے ہیں کہ:
"وہ ٹفن میں گوبر رکھ لے یا پھر بچے کا رات والا پوتڑا ........"
...ہمارے لاہور میں رکشوں پر لکھا ہوتا ہے کہ عقل نہ ہوۓ تے موجاں ای موجاں...آسان جواب ہے کہ کپڑے بدل لے....چند سینکڈ کی مشکل ہے...لیکن حدیث کا مذاق کیسے اڑتا پھر؟....سو گوبر رکھنے کی تجویز مولوی صاحب کے دماغ میں آئ ....یقینا گوبر سے موصوف کو کوئی خاص تعلق رہا ہے.....
مولانا صاحب نے ایک بار مجھ سے بحث کی میں نے کہا کہ
"مردانگی سے کام لیں جرات سے حدیث کا انکار کریں یہ کیا کہ نیمے بروں نیمے دروں".
....جواب میں کہنے لگے کہ "میں احادیث احکام کو مانتا ہوں صرف"
...لیجئے اتنا ہی مانتے ہیں ...کیا یہ حدیث عورت کے لیے حکم نہیں؟....لیکن چونکہ روشن خیالی پر ضرب پڑتی تھی...فورا اندر سے گوبر نکال کر سر بازار رکھ دیا.....
..........ابوبکرقدوسی

Post a Comment

 
Top