GuidePedia

0
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
یہ بات جان لینا کہ اللہ رب العزت نے کائنات کو کیوں پیدا فرمایا بے حد ضروری ہے ۔
لیکن کیا یہ جان لینا ضروری ہے کہ " کہ کیا واقعی اللہ نے ہی کائنات کو پیدا کیا ؟ ؟
یہ سوال اور اس جیسے بہت سے سوالات جس نے انسان کو انتشار القلبی اور شکوک المغزی میں مبتلا کر دیا اور جدت دنیا کے میلوں میں ایسا مجنون بنا کر رکھ دیا کہ انسان " مادیت مادیت " کے راگ الاپنے لگا ۔ فلسفہ آخر ہے کیا ؟
لفظ فلاسفی یونانی اصطلاح میں " فلیو " اور سوفیا " کا مرکب ہے ۔ جس کے معنی ہیں دانش سے محبت کرنا یعنی علم و دانش سے محبت کرنا ۔
فلسفہ کے مسائل : صفحہ نمبر 9
اب ایک شخص اس تعریف کے تناظر میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ کر عقل کی پیروی کرے گا تو یقینا وہ خواہشات کی پیروی اور پوجا کرے گا ۔
کیا ہر فلسفی " لغت " کا ماہر ہوتا ہے ؟  کیا ہر فلسفی " تاریخ " پر شاہد ہوتا ہے یا کلی طور پر اقوام کے " انساب " کا علم رکھتا ہے ؟ کیا ہر فلسفی جو بات کہتا ہے وہ " اسناد اور علم الرجال " کی روح سے کہتا ہے ؟ کیا ہر فلسفی کی بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے ؟ کہ وہ جو کہتا ہے سچ کہتا ہے ؟َ اور ایک جاہل کے پاس فلسفی کی بات کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی ہر قسم کی دلیل موجود ہوتی ہے  ؟
اگر فلسفی ان تمام خصوصیات کے بغیر اپنی عقل کے تناظر میں مسائل کے حل تلاش کرتا ہے ؟ تو اس کی عقل کو ماپنے کا ترازو و پیمانہ کیا صرف عقل ہی ہو سکتی ہے ؟ اور وہ عقل اجتماعی ہو گی یا انفرادی ہو گی ؟
یہ ایسے سوالات ہیں ۔ جس نے ہر فلسفی کو مسائل اور مسئلہ کی انفرادی حیثیت میں تفریقی اصظلاحات پیش کرنے اور تعریفات کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ جس وجہ سے فلسفہ کو پڑھنے والا ، پڑھانے والا ہر وقت حرف تنقید رہتا ہے ۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ۔
فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ
پھر اگر یہ تیری نہ مانیں (١) تو تو یقین کر لے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ ۚ
 اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو (۱) بغیر اللہ کی رہنمائی کے،
إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (۵۰)
بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں ہدایت نہیں دیتا۔( سورۃ القصص : 50)
اللہ اور اس کے رسول ﷺ  نے ہمیشہ انسان کو زندگی کی ماہیت ، طبیعت اور خواص کو سمجھنے پر زور دیا ہے ۔ اور ہمیشہ اللہ کی ذات اور اس کی ذات پر تحقیق کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے انسانی عقل کو مد نظر رکھتے ہوئے وہی معلومات انسان کو بخشی ہیں جو انسان سمجھ کر اللہ پر ایمان لے آئے ۔ لیکن سوال در سوال کرنے پر اللہ نے انسان کو پابند نہیں بنایا ۔ بلکہ اس سے منع کیا ہے ۔
اور فلسفی بھی ہمییشہ اس بات کو تسلیم کرتے رہے ہیں کہ ایسے سوالات پر دینیات کے حامل افراد تو سوال دینے سے گریزاں ہیں لیکن جب فلاسفہ کے پاس سوالات کے جواب نہیں ہوتے تو وہ اپنی عقل کو کل مان کر خدا کے وجود ہی کا انکار کر دیتے ہیں ۔ جو کہ شواہد و مناظر کو پرکھنے کے بغیر فطرت انسانی کے عین خلاف ہے ۔
"برٹرینڈ رسل " لکھتا ہے ۔
" ایسے سوالات کا جواب لیبارٹری میں نہیں ملتا ۔ ماہرین دینیات کا یہ دعوی ہے کہ ان کے پاسان سوالوں کے حتمی اور قطعی سوالات موجود ہیں لیکن ان کا یہ ہی وثوق جدید ذہنوں میں شک و احتمال پیدا کر دیتا ہے ۔ ان سوالات کے مطالعے کا نام " فلسفہ " ہے اگرچہ اس سے بھی ان سوالات کے جوابات نہیں ملتے "
(فلسفہ مغرب کی تاریخ : صفحہ نمبر 25،26)
یہ بات  یونانی فلسفہ کے عین مطابق ہے واقعی فلسفی کے پاس کسی قسم کی حتمی بات یا نتیجہ موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی فلسفی کے پاس دلی اطمینان اور سکون دماغ ہوتا ہے ۔
ڈیکارٹ کہتا ہے
" فلسفے کا آغاز شک کی بنیاد پر ہوا "
ارسطو کہتا ہے ۔
" فلسفے کی ابتداء حیرت سے ہوئی "
( فلسفہ کے مسائل : صفحہ نمبر 8، ایس ایم شاہد )
ایک ایسا علم جس کی بنیاد ہی شک اور حیرت پر مبنی ہو وہ کس طرح رسول اللہ ﷺ اور اللہ کی اتباع کے انسان کو ہدایت پر قائم رکھ سکتا ہے ۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ
 أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (۱۵)
مؤمن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہیں
یہی سچے اور راست گو ہیں (سورۃ الحجرات : آیت نمبر 15)
ہمارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم جدید دنیا کی تقلید میں اندھے ہو چکے ہیں ۔ اور قرآن و سنت کو ماپنے کا معیار انسانی عقل کو بنا لیا ہے ۔ اس انسانی عقل کو جس نے لغت ، نصوص ، اصول ، نصاب جیسی کسی چیز کوکسی استاد سے نہیں سیکھا ۔ بلکہ اپنا استاد حواص خمسہ کو مان کر ماحول کو نصاب سمجھ لیا ہے ۔ جس میں گندگی بھی ہے اور پاکیزگی بھی ۔ ہم   یہ علم حاصل کرنے کے بعد خیر و شر کو ترازو میں تولنے کے قائل نہیں بن سکتے بلکہ ہمارا سارا دارومدار اس بات کو درست یا ثبوت ماننے پر لگ جائے گا کہ خیر اور شر واقعی کوئی حقیقت ہیں ؟
افلاطون کہتا ہے
" اشیاء کی فطری ماھیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام فلسفہ ہے ۔ "
بحوالہ( فلسفہ کے بنیادی مسائل : قاضی قیصر الاسلام ، صفحہ نمبر 25)
ڈاکٹر وحید عشرت لکھتے ہیں
" فلسفہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ پر زندگی کی حقیقت واشگاف کر دے"
بحوالہ ( مقدمہ ، مقالات فلسفہ : صفحہ نمبر 13)
جبکہ اللہ کا قرآن ارشاد فرماتا ہے ۔۔۔۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ

جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے کام کون کرتا ہے،
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (2)

اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔‏(سورۃ الملک )
اگر فلسفہ کسی الجھے مسئلہ کو عقل کے تناظر میں حل کرنے کا نام ہے ۔ اور دوسری جانب فلسفہ کا مقصد زندگی کی حقیقت کو آپ پر واشگاف کرنا ہے تو کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قرآن نے زندگی اور موت کا مقصد بیان کر کے حتیمیت پیدا کی اور لا یعنیت کو ختم کر دیا جس سے انسان شکوک و شبہات میں مبتلا ہو ؟
میرے نزدیک فلسفہ محض عقل کی پوجا کا علم ہے ۔ جس سے خواہشات کی پیروی کی جاتی ہے۔ اور اس علم کا نہ کوئی مقصد ہے نہ کوئی حقیقت ۔
ازقلم عبدالسلام فیصل

Post a Comment

 
Top