ممنوعہ رسومات،
Taboo Rituals Still Performed Today
Taboo Rituals Still Performed Today
ہمارے اردگرد ماحول میں ایسی رسومات ادا کی جاتی ہیں جنہیں ہم ایک مخصوص عقیدہ، سوچ اور مذہبی کیفیت میں مقدس سمجهتے ہوئے ان کی ادائیگی کرتے ہیں. نسل در نسل اجداد سے منتقل ہونے والی ایسی رسومات جو ایک خاص وقت میں شروع کی گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ آنے والے وقتوں میں وہ مقدس قرار دے دی گئیں.
اس تحریر میں دنیا میں رائج شدہ چند دردناک اور پرتشدد ایسی رسومات جو کہ اجتماعات کی صورت میں مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہیں خاص کر جن میں لوگوں کی بہت زیادہ تعداد ہو وہاں اس کی شدت میں بهی اضافہ ہو جاتا ہے. ان رسومات کا تعلق زمانہ قدیم میں موجود جنگلی قبائل کی توہمات اور عقائد سے جا ملتا ہے جن کے اثرات جدید اور پسماندہ معاشروں میں اب بهی رائج ہیں. یہ چند ایسی ممنوعہ رسومات ہیں جن میں انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.
اس تحریر میں دنیا میں رائج شدہ چند دردناک اور پرتشدد ایسی رسومات جو کہ اجتماعات کی صورت میں مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہیں خاص کر جن میں لوگوں کی بہت زیادہ تعداد ہو وہاں اس کی شدت میں بهی اضافہ ہو جاتا ہے. ان رسومات کا تعلق زمانہ قدیم میں موجود جنگلی قبائل کی توہمات اور عقائد سے جا ملتا ہے جن کے اثرات جدید اور پسماندہ معاشروں میں اب بهی رائج ہیں. یہ چند ایسی ممنوعہ رسومات ہیں جن میں انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.
10: مردہ خوری
Cannibalism and Necrophagy
Cannibalism and Necrophagy
دنیا میں آدم خور قبیلے اب بهی افریقہ اور امریکہ کے چند علاقوں میں موجود ہیں لیکن کسی مذہب اور دهرم میں انسان کی قبائلی زندگی کے وحشی ادوار کی رائج شدہ رسومات اب بهی باقی ہیں.
انڈیا کے شہر وارانسی سے تعلق رکهنے والے “اگهوری بابا” کے مقلد جو کہ مردوں کا گوشت کهانے کی وجہ سے مشہور ہیں. ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کے لئے سب سے بڑا ڈر، اس کی اپنی موت کی دہشت اور خوف ہے اور یہ خوف ہی روحانی فکری نور کے حصول میں رکاوٹ ہے. چنانچہ اس کا سامنا کر کے اس کا مقابلہ کرنے سے ہی ہم روحانی فکری نور تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں.
ہندو دهرم میں مقدس مردوں، حاملہ عورت، بچے اور کنواری لڑکی کو جلایا نہیں جاتا یا پهر کوئی ایسا فرد جو جذام کی بیماری میں یا سانپ کاٹنے سے مر گیا ہو.
یہ لوگ گروہوں کی صورت میں رہتے ہیں. گنگا دریا میں بہہ کے آنے والی لاشوں کو پانی سے کهینچ کر نکالتے ہیں اور ان لاشوں کو مجمع کی صورت میں اکٹهے بیٹھ کے کهایا جاتا ہے.
انڈیا کے شہر وارانسی سے تعلق رکهنے والے “اگهوری بابا” کے مقلد جو کہ مردوں کا گوشت کهانے کی وجہ سے مشہور ہیں. ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کے لئے سب سے بڑا ڈر، اس کی اپنی موت کی دہشت اور خوف ہے اور یہ خوف ہی روحانی فکری نور کے حصول میں رکاوٹ ہے. چنانچہ اس کا سامنا کر کے اس کا مقابلہ کرنے سے ہی ہم روحانی فکری نور تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں.
ہندو دهرم میں مقدس مردوں، حاملہ عورت، بچے اور کنواری لڑکی کو جلایا نہیں جاتا یا پهر کوئی ایسا فرد جو جذام کی بیماری میں یا سانپ کاٹنے سے مر گیا ہو.
یہ لوگ گروہوں کی صورت میں رہتے ہیں. گنگا دریا میں بہہ کے آنے والی لاشوں کو پانی سے کهینچ کر نکالتے ہیں اور ان لاشوں کو مجمع کی صورت میں اکٹهے بیٹھ کے کهایا جاتا ہے.
9: سورج رقص
The Sun Dance
The Sun Dance
مقامی امریکی باشندے “زمین کی روح” کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بہت سی رسومات ادا کرتے ہیں. ان رسومات ادا کرنے کا مقصد کسی فرد کا عظیم روح کی عبادت کرنا، اور شجر حیات ( tree of life ) کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھنے کے لئے خود کی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے.
رقص سے پہلے تمام شرکاء مل کر سینے کی جلد میں ایک کیل گهسا دیتے ہیں. اس کیل کو ایک رسی کے ذریعے پول کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے، یہ رسی شجر حیات کی نمائندگی کرتی ہے.
پهر تمام شرکاء پیچهے ہٹتے ہوئے رقص کے انداز میں آگے کی طرف آ کے پیچهے ہٹتے ہیں اور اس کیل کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی جلد میں گهسا ہوتا ہے. یہ رقص اختتام سے پہلے چند گهنٹے جاری رہتا ہے جس میں یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے.
رقص سے پہلے تمام شرکاء مل کر سینے کی جلد میں ایک کیل گهسا دیتے ہیں. اس کیل کو ایک رسی کے ذریعے پول کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے، یہ رسی شجر حیات کی نمائندگی کرتی ہے.
پهر تمام شرکاء پیچهے ہٹتے ہوئے رقص کے انداز میں آگے کی طرف آ کے پیچهے ہٹتے ہیں اور اس کیل کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی جلد میں گهسا ہوتا ہے. یہ رقص اختتام سے پہلے چند گهنٹے جاری رہتا ہے جس میں یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے.
8: خود اذیتی، ماتم
Self-Flagellation
Self-Flagellation
اسلامی شیعہ فرقے کے پیروکار حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو یاد کرنے کے لئے، محرم الحرام کے مقدس مہینے کے دوران ہر سال بڑے پیمانے پر خود اذیتی، ماتم کی رسم ادا کرتے ہیں
اس کی منظر کشی میں صرف اتنا بیان کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے مرد اپنے جسم کو زنجیر سے بندهی ہوئی تیزدهار چھریوں اور تلواروں سے پیٹھ اور سینے کو کاٹتے ہیں. اس مذہبی رسم کی ادائیگی کے وقت وہ ایسی جنونی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں درد اور تکلیف کا احساس نہیں ہوتا.
اس کی منظر کشی میں صرف اتنا بیان کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے مرد اپنے جسم کو زنجیر سے بندهی ہوئی تیزدهار چھریوں اور تلواروں سے پیٹھ اور سینے کو کاٹتے ہیں. اس مذہبی رسم کی ادائیگی کے وقت وہ ایسی جنونی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں درد اور تکلیف کا احساس نہیں ہوتا.
7: رسی سے کودنے کی رسم
Vine Jumping
Vine Jumping
پیسفک جزائر میں “بن لوپ” کے ایک گاؤں میں گکول Gkol نامی عجیب رسم ادا کی جاتی ہے. اس رسم میں بنجی جمپ کی طرح چهلانگ لگائی جاتی ہے. گاؤں کے لوگ گانا گاتے اور رقص کرتے ہیں کچھ لوگ چهلانگ لگانے والوں کے آگے ڈھول بجاتے ہوئے ان کا حوصلہ بڑهاتے ہیں. چهلانگ لگانے والے اپنی ایڑیوں کے گرد رسی باندهتے ہیں اور ایک بہت اونچے لکڑی کے مینار پہ چڑھ کر (جو کہ خاص اس رسم کے لئے تیار کیا جاتا ہے) چهلانگ لگا دیتے ہیں.
شرکاء کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں جس میں سب سے پہلے سر زمین سے ٹکراتا ہے. نیچے وہ صرف اس وقت گرتے ہیں جب رسی مینار سے ٹوٹ جاتی ہے. ان کا عقیدہ ہے کہ جتنی اونچی چهلانگ ہو گی خدا ان پہ اتنا ہی مہربان ہو گا.
شرکاء کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں جس میں سب سے پہلے سر زمین سے ٹکراتا ہے. نیچے وہ صرف اس وقت گرتے ہیں جب رسی مینار سے ٹوٹ جاتی ہے. ان کا عقیدہ ہے کہ جتنی اونچی چهلانگ ہو گی خدا ان پہ اتنا ہی مہربان ہو گا.
6 : جوان مرد بنانے کی رسم، تیغ زنی
Scarification
Scarification
پاپوا نیو گنی کے کاننگرا نامی قبیلے میں ایک خونی رسم ادا کی جاتی ہے جس کا مقصد فطرت کے ساتھ روحانی تعلق کو مضبوط کرنا ہوتا ہے.
ان رسوم کی تقریبات ایک خاص “روحانی گهر” کے اندر منعقد کی جاتی ہیں جسے یہ لوگ “تامبارن ہاؤس” کہتے ہیں. نوعمر لڑکے دو ماہ کے لئے اس گهر میں اکیلے رہتے ہیں، تنہائی میں معینہ مدت تک رہنے کے بعد قبیلے کے لوگ ایک تقریب منعقد کرتے ہیں جس میں ان نوعمر لڑکوں کو نوجوان سے جوان مرد بنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے.
ایک ماہر جسم چهیدنے والا ان کے جسم کو بانس کے تیز نوکیلے ٹکڑے سے کاٹتا ہے اور ایک مخصوص ڈیزائن بناتا ہے جو کہ مگرمچھ کی جلد مشابہت رکهتا ہے. اس ڈیزائن کا مقصد اس تصور سے جڑا ہے کہ مگرمچھوں نے ہی انسانوں کو تخلیق کیا اور جلد پر موجود نشانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مگرمچھ کی روح نے نوجوان لڑکے کے جسم کو کهایا ہے اور اس جسم سے ایک جوان مرد کو باہر نکالا ہے.
ان رسوم کی تقریبات ایک خاص “روحانی گهر” کے اندر منعقد کی جاتی ہیں جسے یہ لوگ “تامبارن ہاؤس” کہتے ہیں. نوعمر لڑکے دو ماہ کے لئے اس گهر میں اکیلے رہتے ہیں، تنہائی میں معینہ مدت تک رہنے کے بعد قبیلے کے لوگ ایک تقریب منعقد کرتے ہیں جس میں ان نوعمر لڑکوں کو نوجوان سے جوان مرد بنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے.
ایک ماہر جسم چهیدنے والا ان کے جسم کو بانس کے تیز نوکیلے ٹکڑے سے کاٹتا ہے اور ایک مخصوص ڈیزائن بناتا ہے جو کہ مگرمچھ کی جلد مشابہت رکهتا ہے. اس ڈیزائن کا مقصد اس تصور سے جڑا ہے کہ مگرمچھوں نے ہی انسانوں کو تخلیق کیا اور جلد پر موجود نشانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مگرمچھ کی روح نے نوجوان لڑکے کے جسم کو کهایا ہے اور اس جسم سے ایک جوان مرد کو باہر نکالا ہے.
5: آسمانی تدفین
Sky Burials
Sky Burials
تبت میں بدھ مت کے پیروکار عجیب مقدس مذہبی رسم ادا کرتے ہیں جسے آسمانی تدفین یا “جهاتور” کہا جاتا ہے. بدھ مت کے یہ پیروکار مر کے دوبارہ زندہ ہونے پہ یقین رکهتے ہیں جس کا مطلب ہے مرنے کے بعد جسم کے تحفظ کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل کر دی جاتی ہے.
مردہ جسم کو نسبتاً ایک اونچائی پہ موجود میدان میں لے جایا جاتا ہے، جہاں لاش کو گدھ اور چیل کی خوراک بننے دیا جاتا ہے. ایک ماہر آدمی اس لاش کو چهوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے تا کہ لاش کا خاتمہ جلدی سے ہو جائے.
مردہ جسم کو نسبتاً ایک اونچائی پہ موجود میدان میں لے جایا جاتا ہے، جہاں لاش کو گدھ اور چیل کی خوراک بننے دیا جاتا ہے. ایک ماہر آدمی اس لاش کو چهوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے تا کہ لاش کا خاتمہ جلدی سے ہو جائے.
4: آگ پر چلنے کی رسم
Fire Walking
Fire Walking
ملائشیا کے علاقے پینانگ میں، نو شہنشاہ خداؤں کا میلہ منعقد ہوتا ہے. جس میں ننگے پاؤں انگاروں پہ چلنے کی رسم ادا کی جاتی ہے. ان کا عقیدہ ہے کہ آگ پر چلنے سے انسان شیطانی اثرات، گناہ اور نجاست سے پاک ہو جاتا ہے اور آگ پر چلنا کسی آدمی کی عظمت اور شیطان سے خود کو آزاد کروانے کی نشانی ہے.
سینکڑوں عقیدت مند اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے دہکتے انگاروں پر چلنے کا مظاہرہ کرتے ہیں.
سینکڑوں عقیدت مند اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے دہکتے انگاروں پر چلنے کا مظاہرہ کرتے ہیں.
3: مردوں کے ساتھ رقص
Dancing With the Dead
Dancing With the Dead
مڈغاسکر کے مقام پر منعقد ہونے والا ایک روایتی تہوار “فامادیہانا” جس کا مطلب ہے “ہڈیوں کا واپس آنا”. اس تہوار میں حصہ لینے والوں کا عقیدہ ہے کہ جتنی جلدی جسم گل سڑ جاتا ہے اتنی جلدی روح آخرت میں پہنچ جاتی ہے. اس کے لئے وہ اپنے پیاروں کی لاش کو قبر کهود کے نکالتے ہیں. مردہ کے ٹکڑوں اور قبر کے گرد موسیقی کے ساتھ رقص کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے بعد پهر سے انہیں دوبارہ دفنا دیا جاتا ہے.
یہ عجیب رسم ہر دو سے سات سال کے دوران دوہرائی جاتی ہے.
یہ عجیب رسم ہر دو سے سات سال کے دوران دوہرائی جاتی ہے.
2: چهید کرنا
Impaling
Impaling
تهائی لینڈ کے علاقے فوکٹ میں منعقد ہونے والا میلہ سبزی خور مناتے ہیں. یہ انتہائی شدت پسند تقریب ہوتی ہے جس میں شرکاء سلاخیں، چاقو، چھریاں، تلواریں، کلہاڑیاں حتی کہ کبهی کبهی اپنی بندوق کو بهی رخساروں میں سوراخ کر کے گهسا دیتے ہیں. ان کا عقیدہ ہے کہ اس رسم کے دوران خدا ان کے جسم میں حلول کر جاتا ہے تا کہ انہیں شیطان سے محفوظ رکھ سکے اور قبیلے کے لئے خوشحالی اور اچهی قسمت لے آئے.
1: مراسم مرگ
Death Rites
Death Rites
ایمزون کے جنگلوں میں یانومامی کے قبائل دنیا کے قدیم ترین قبائل میں شمار کئے جاتے ہیں. ان کے نزدیک موت کوئی قدرتی رجحان نہیں ہے. پہلے وہ لاش کو جلاتے ہیں اور لاش کی راکھ کو کیلے کے خمیر میں ملا دیتے ہیں. اس مرکب کو قبیلے کے لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اس کو کهانے کا مطلب ہوتا ہے کہ مرنے والے کی روح قبیلے والوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے موجود رہے گی اور ان کے درمیان زندگی گزارنا شروع کر دے گی..!!
اس تحریر کو لسٹ ورس کی ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا..!!
http://listverse.com/…/10-taboo-rituals-still-performed-to…/
http://listverse.com/…/10-taboo-rituals-still-performed-to…/









Post a Comment