کالجز اور یونیورسٹیوں میں کچھ جوشیلے مزاج ایسے نوجوان بھی آپ کو ملیں گے جنہوں نے تنگ جینز پہنی ہوئی ہو گی ، اور تنگ شرٹ پہنی ہوئی ہو گی ۔ جینز کے پائونہچے ایڑھیوں کے نیچے گس رہے ہوں گے ، اور بالوں کا سٹائل ایسا ہو گا کہ کانوں کے اوپر اور پیچھے سے سر منڈھوایا ہوا ہو گا اور درمیان سے بالوں کو جیل لگا کر سپائکس بنا کر سیدھا نوک دھار کھڑا کیا ہو گا ، لیکن اس باغی کی زندگی میں ابھی کچھ تبدیلی ہونا باقی تھی اور جناب نے دھاڑی مونچھ کو اس طرح بڑھا دیا کہ ہونٹوں کا تلاش کرنا نا ممکن نظر آئے ، اور صرف اتنی بڑھائی کہ جیل لگا کر دھاڑی کے بھی سپائکس بنا لیے یعنی دھاڑی کو بھی نوک دار بنا ڈالا ۔۔۔ پھر کیا ہوا ۔۔۔۔ والد صاحب نے عرض کی کہ یہ یہود والی دھاڑی رکھ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تو والدہ بولیں چلیں جیسی بھی رکھی ہے رکھ تو لی نہ ۔ یہ بحث پھر گھر سے معاشرے کے ہر طبقے میں بسنے والے شخص نے ایسے نوجوان کو دیکھ کر شروع کر دی ۔ اب اس نوجوان کی نیت تو اللہ ہی جانے ۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت کے خلاف ہے ۔ اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے ۔ لیکن لبرلزم کی سیڑھیوں پر قدم رکھتا نوجوان یہ نہیں جانتا کہ جب وہ گناہ کرے گا تو لبرل موم بتی مافیہ بہت خوش ہو گا کہ آخر کار اس نے صرف بد نیتی کی وجہ سے سنت کو فراموش کر دیا ۔ دیکھیں جی ۔ دھاڑی رکھ کر بھی تو گناہ کیا جا سکتا ہے ۔ لڑکیوں سے سیٹنگ کی جا سکتی ہے ، شراب اور سیگریٹ نوشی کی جا سکتی ہے ۔ اور تو اور دھاڑی رکھ کر تو کلب میں ڈانس بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تو یہ کس طرح گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے ؟ کس طرح یہ سنت انسان کو اخلاقیات میں اچھائی کے پیمانوں تک محدود رکھتی ہے ۔ ؟ ہمیں صرف سٹائل ہی تو بدلنا ہے دھاڑی کا !!! اور لبرل مافیہ کا کام آسان ۔۔۔۔ سنت کی مخالفت شروع !!!!!
صرف نیت کے بدل جانے سے انسان تابع فرمانی سے نا فرمانی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں اس اکیلے انسان کی بد نیتی سے بے شمار بد نیتیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ اور بغاوت کی راہیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اس بغاوت کو سنت کس طرح بنانا ہے ۔ باقی ہدایت دینا اللہ کے یاتھ میں ہے ۔۔
عبدالسلام فیصل

Post a Comment