GuidePedia

0
بسم الله الرحمن الرحیم.
#فتنہ #انکار #حدیث 
"قربانی پر اعتراضات" 
عیدالاضحی تکمیل دین کا عظیم الشان تہوار اور حضرت ابراہیم علیه السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فقید المثال قربانی کی یادگار ہے ،ہم نہ صرف نظریاتی طور پر ہی اسکو نہیں مناتے ہیں، بلکہ عملی طور پر بھی اپنی قربانیاں پیش کرکے اس جذبہ قربانی کو فروغ دیتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ "محیای و مماتی للہ رب العالمین " یعنی ہماری زندگی اور موت سب الله کہ لئے ہے - 
عیدالاضحی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے برابر ہر سال منائی جا رہی ہے اور ہر سال قربانیاں بھی متواتر اور مسلسل ہوتی رہتی ہیں ، یہ ایک وہ عمل ہے کہ جسکا انکار حقائق کا انکار بھی ہے، لیکن وائے افسوس! ہمارے زمانے میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اس قربانی کا انکار کرتے ہیں اور اس کو مال کا ضیاع تصور کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ قومی دولت کا کڑوڑوں روپیہ ہر سال برباد ہوجاتا ہے اگر یہ روپیہ اس طرح ضیاع نہ کیا جائے تو اس سے قوم کی معیشیت کو کافی حد تک بهتر بنایا جاسکتا ہے -مزید برآں یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں اسکا کوئی ثبوت نہیں ملتا لہذا اس کی کوئی اہمیت نہیں، 
گویا قربانی پر دو قسم کے اعتراضات ہیں: 
١) قرآن مجید میں اس حکم کا نہ ہونا (منکرین حدیث)
٢ ) مادی نقصانات (ملحد ولبرل)
ملاحظہ ہو ان کا جائزہ :
منکرین کا یہ کہنا کہ قرآن مجید میں اسکا کوئی ثبوت نہیں بلکل بےبنیاد ہے ،قرآن مجید سے بھی اس قربانی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے لیکن یہاں یہ ضروری نہیں کیوں کہ نہ ہم خود اس بات کہ قائل ہیں کہ جب تک کسی چیز کا ثبوت قرآن مجید میں نہ ہو وہ چیز ثابت نہیں اور نہ اس عقیدے کو دوسرے کے ذہنوں میں جگہ دینا چاھتے ہیں ،اگر کسی چیز کا ثبوت حدیث سے مل جاتا ہے تو بس وہ کافی ہے کیوں حدیث بھی منزل من الله ہے اسلئےمزید ثبوت کی ضرورت نہیں، 
پھر بھی ایک مثال ملاحظہ ہو:
حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے
ارشاد باری ہے :
"جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ان دونوں میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی" (مائدہ)
ایک اور جگہ ارشاد باری ہے: 
" ان لوگوں نے کہا کہ الله تعالی نے ہم سے عہد لیا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جس کو آگ کھا جائے ،کہدو کہ مجھ سے پہلے رسول معجزات کے ساتھ تمھارے پاس آئے اور وہ قربانی بھی پیش کی جس کا تم مطالبہ کرتے ہو تو پھر تم نے انکو کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہوتو "(القران)
یعنی گزشتہ انبیاء کے زمانے میں ایسی قربانی کا دستور تھا کہ قربانی کی اشیاء کو ایک جگہ رکھ دیا کرتے تھے آگ آتی تھی اور ان اشیاء کو جلا دیا کرتی تھی یہ قربانی کہ قبول ہونے کی علامت تھی -
لیجئے !قرآن مجید سے تو ایسی قربانی کا ثبوت ملتا ہے جسکا مادی فائدہ کچھ بھی نہیں بلکہ کلیتہ مال کی بربادی ہے ،
جبکہ موجودہ قربانی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس میں کتنے مادی فوائد ہیں یعنی امت مسلمہ پے جواحکامت نازل کئے گئے ان میں نہ صرف اخروی فائدہ ہوتا ہے بلکہ دنیا میں بھی مادی فوائد کا باعث ہیں، ملاحظہ کیجئے چند ایک:
١) دولت کی گردش ،یعنی موجودہ معیشیت کا اہم تقاضہ ٢) دولت کا سرما یاداروں کی جیب سے نکل کر غرباء کے ہاتھوں میں منتقل ہونا اور غرباء کا ذریعہ معا ش بننا -
٣) مویشی کی افزائش و نسل کی حوصلہ افزائی اور اس کے ضمن میں دودھ ،دہی، گھی وغیرہ کی پیداوار میں اضافہ ٤) چرم سازی کے کارخانوں کہ لئے خام مال کی فراہمی 
٥ ) جوتے اوردوسری چرمی صنعتوں کا فروغ ٦) چرمی اشیاء کی برآمد اور زرمبادلہ کا حصول ٧) کھالوں کی برآمد اور کثیر زرمبادلہ کا حصول ٨) اون کی پیداوار میں اضافہ اور اسکی برآمد سے زرمبادلہ کا حصول ٩) مندرجہ بالا صنعتوں اور برآمدی کاروبار میں ہزارہا افراد کو روزگار مہیہ ہونا ،١٠) گوشت کی بہت بڑی مقدارر غرباء کے حصے میں آنا اور ان کی عید کی خوشی کا دوبالا ہونا" تلک عشرہ کاملہ"
..غرض یہ کہ قربانی سے فائدہ ہی فائدہ ہے –اگر کسی کو یہ فوائد نظر نہ آئیں تو سوائے جہالت کے کچھبھی نہیں کہا جاسکتا،
مادی عینک سے ہر چیز کو دیکھنے والوں کہ لئے یہاں مادی فوائد کا ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اسلام کہ ہر حکم میں متعدد مصالح مضمر ہیں اور اسلام ہی وہ نظام معیشت پیش کرتا ہے جس میں بےپایاں خیر و برکت ہے اور اگر قربانی میں یہ مادی فوائد نہ بھی ہوتے تب بھی ہم اسے اسی ولولہ سے انجام دیتے جسطرح گزشتہ انبیاء علیھم السلام قرآن مجید کی بیان کردہ قربانی دیا کرتے تھے اور ان کو قطعا اس کے مادی نقصان کی پرواہ نہیں تھی، حقیقت بھی یہی ہے کہ رضوان الہیٰ اور روحانی فائدہ جہاں مقصود ہو وہاں مادی نقصان تو کیا جانی نقصان کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی اور قربانی کا مقصد ہی روحانی فوائد ہے نہ کے مادی ..
منکرین حدیث کی لئے درس عبرت ؛ 
منکرین حدیث ذرا ٹھنڈے دل سی سوچیں کہ قرآن تو اس قربانی کا ثبوت پیش کرتا ہے جو کلیتہ ضیاع ہو جاتی ہے جبکہ حدیث میں تو اس قربانی کا ثبوت ہے جو مادی فوائد سے مالا مال ہے اگر حدیث پر اعتراض ہے ،حالانکہ وہ غلط اعتراض ہے تو کیا اسطرح کا اعتراض قرآن مجید پر نہیں ہوسکتا ؟؟معلوم نہیں یہ لوگ قرآن پر اعتراض کیوں نہیں کرتے تاکہ ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے اور سادہ عوام دھوکہ نہ کھائے ،یہ لوگ قرآن کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں تاکہ عوام ان کو مسلمان اور قرآن کا وفادار سمجھے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے قرآن مجید کے ساتھ جو کھیل یہ کھیل رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے ،بلکہ یوں کہنا چائیے کہ تحریف معنوی کی بڑی ہی مکروہ مثال ہے جس نے پورے اسلام کو بیخ دبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے اور فریب خوردہ مسلمانون کو ڈارون اور مارکس کی گود میں ڈال کر الحاد اور سوشلزم کہ لئے راہ ہموار کردی ہے -
اے علمبردار قران و حدیث ! سوچئے یہ فتنہ کس قدر خطرناک ہے ،لیکن ہماری حیثیت محض خاموش تماشائی کی ہوکر رہ گئی ہے لہذا یہ وقت ہے تمام فتنوں کہ مقابلے کیلیے سینۂ سپر ہونے کا،اتحاد امت کا،مسالک و فرقہ پرستی سےتائب ہوکر خالص دین اسلام کی سر بلندی اور احادیث صحیحہ کے نفاز کہ لئےاٹھ کھڑے ہونے کا ،اگر اب بھی ہم ہوشیار نہیں ہوئے تو آئندہ نسل اس فتنہ انکار حدیث کا بری طرح سے شکار ہوجائیگی اور ان کی گمراہی کی پوری ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی ،اور میدان حشر کسی بھی جواب سے قاصر ہوں گے-
الله سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے تمام فتنوں سے اپنی پناہ میں رکھے اور خالص قرآن و صحیح احادیث پہ عمل پیرا فرمائے....آمین
سیف علی

Post a Comment

 
Top