GuidePedia

4


جمہور علمائے امت کے نزدیک لونڈی کا ستر وہی ہے جو مرد کا ستر ہے، یعنی ناف سے گھٹنوں تک۔ جبکہ قرآن و سنت کےعمومی دلائل اس موقف کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔کسی بھی موقف کے دلائل کو مزید تقویت پہنچانے کیلئے جمہور علمائے امت اور اقوالِ اسلاف، مؤثر قرینہ ثابت ہوتے ہیں،مگر جب دلائل ہی مفقود ہوں یا پایہ ثبوت تک نہ پہنچتے ہوں،یا پھر اس کے بر عکس دلائل ہی جمہور کے موقف کے خلاف ہوں، تو بطورِ قرینہ اس کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے،بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ جمہور علماء امت کو ہمیشہ بطورِ قرینہ ہی پیش کیا گیا ہے، بطورِ دلیل نہیں۔ اسی وجہ سے جمہور کے خلاف موقف اپنانے والے کو کبھی امت سے خارج نہیں سمجھا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جمہور کا موقف اکثر و بیشتر راجح ہی ہوتا ہے، مگر لونڈی کے ستر کے شرعی حکم کے مسئلہ میں ہم ان کا موقف مرجوح سمجھتے ہیں۔ اس کے حق میں جو دلائل دیئے جاتے ہیں, آیئے ان کا جائزہ لیتے ہیں؛
پہلی دلیل؛
يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك أدنى أن يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورا رحيما (الاحزاب 59)
اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر جلباب اوڑھ کر رکھیں، یہ اقرب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور پھر اذیت نہ دی جائیں۔ اور اللہ بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔
اس کی تفسیر مختصراً یوں بیان کی گئی ہے کہ رات کو جب عورتیں قضائے حاجت کیلئے نکلتی تھیں تو راستے میں غنڈے انہیں چھیڑ دیتے تھے،جب ان سے پوچھ گچھ کی جاتی تو کہتے کہ ہم نے سمجھا کہ شاید لونڈی ہے۔ تو اللہ نے پھر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے، آیئے امام ابنِ حزم کی زبانی ملاحظہ فرمایئے؛
وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ مَنْ وَهَلَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ} [الأحزاب: 59] إلَى أَنَّهُ إنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ لِأَنَّ الْفُسَّاقَ كَانُوا يَتَعَرَّضُونَ لِلنِّسَاءِ لِلْفِسْقِ؛ فَأَمَرَ الْحَرَائِرَ بِأَنْ يَلْبَسْنَ الْجَلَابِيبَ لِيَعْرِفَ الْفُسَّاقُ أَنَّهُنَّ حَرَائِرُ فَلَا يَعْتَرِضُوهُنَّ. قَالَ عَلِيٌّ: وَنَحْنُ نَبْرَأُ مِنْ هَذَا التَّفْسِيرِ الْفَاسِدِ، الَّذِي هُوَ: إمَّا زَلَّةُ عَالِمٍ وَوَهْلَةُ فَاضِلٍ عَاقِلٍ؛ أَوْ افْتِرَاءُ كَاذِبٍ فَاسِقٍ؛ لِأَنَّ فِيهِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَطْلَقَ الْفُسَّاقَ عَلَى أَعْرَاضِ إمَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَهَذِهِ مُصِيبَةُ الْأَبَدِ، وَمَا اخْتَلَفَ اثْنَانِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فِي أَنَّ تَحْرِيمَ الزِّنَى بِالْحُرَّةِ كَتَحْرِيمِهِ بِالْأَمَةِ؛ وَأَنَّ الْحَدَّ عَلَى الزَّانِي بِالْحُرَّةِ كَالْحَدِّ عَلَى الزَّانِي بِالْأَمَةِ وَلَا فَرْقَ، وَإِنَّ تَعَرُّضَ الْحُرَّةِ فِي التَّحْرِيمِ كَتَعَرُّضِ الْأَمَةِ وَلَا فَرْقَ۔۔۔الخ (المحلی بالآثار 249/2)۔
بعض لوگوں نے اللہ کے کلام میں یہ سہو پیدا کرنے کی کوشش کی کہ احزاب 59 کی مذکورہ بالا آیت میں اللہ نے اس لئے حکم دیا کہ فاسقین،عورتوں کو فسق کیلئے چھیڑتے تھے،تو اللہ نے آزاد عورتوں کو حکم دیا کہ جلباب اوڑھ لیں، تا کہ فساق انہیں پہچان لیں کہ یہ آزاد عورتیں ہیں،تو ان سے تعرض نہ کریں۔امام ابنِ حزم کہتے ہیں کہ ہم اس فاسد تفسیر سے بری ہیں جوکہ یا تو عالم کا پھسلنا ہے،یا عاقل و فاضل کا سہو ہے یا پھر جھوٹے فاسق کی افتراء پردازی ہے، کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ نے فساق کو مسلمان لونڈیوں کی عزت سے کھلواڑ کرنے کی اجازت دے دی۔یہ مصیبت ہمیشہ ہمارے گلے 
پڑی رہے گی۔مسلمانوں میں سے کسی دو آدمیوں میں بھی یہ اختلاف نہیں پایا جاتا کہ آزاد عورت اور لونڈی،دونوں سے زنا حرمت میں برابر ہیں۔ آزاد عورت سے زنا کرنے والے کو بھی وہی حد لگائی جائے گی جو لونڈی سے زنا کرنے والے کو لگائی جائے گی، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ آزاد عورت کو چھیڑنا،حرمت میں لونڈی کو چھیڑنے کے برابر ہے، اس میں بھی کوئی فرق نہیں۔۔۔۔الخ
اول تو اس تفسیر میں جتنے بھی اقوال ہیں،کوئی بھی بلحاظِ سند علت سے خالی نہیں۔ مختصراً ان پر تبصرہ حسبِ ذیل ہے؛
1۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ (تفسیر الطبری 331/10، اس میں امام محمد بن سعدؒ کے والد، پھر ان کے چچا،پھر ان کے والد، پھر ان کے والد سب مجاہیل میں سے ہیں۔ کتبِ اسماء الرجال میں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں)۔
2۔ یا ابو قلابہؒ،(ان کا ذکر آگے آئے گا، ان شآء اللہ)۔
3۔ ابو مالکؒ (طبقات ابن سعد 176/8، اس میں واقدی مشہور کذاب و متروک ہے۔ دیکھئے تقریب التہذیب 498/1)۔
4۔ زہریؒ،(تفسیر ابن ابی حاتم 3154/10، رقم الحدیث 17786، اس میں ابو صالح عبد اللہ بن صالح مختلف فیہ راوی ہے۔ حافظ ابنِ حجرؒ کے نزدیک یہ صدوق،مگر کثیر الغلط اور غفلت برتنے والا تھا، لیکن کتاب سے دیکھ کر صحیح روایت کرتا تھا۔ دیکھئے تقریب التہذیب 308/1۔ علامہ ذہبیؒ کے نزدیک یہ کمزور تھا۔ جزرہ نے اسے کذاب کہہ دیا ہے۔ دیکھئے الکاشف 562/1۔ نیز یونس بن یزیدؒ کی زہریؒ سے روایت میں وہم ہوتا تھا۔ دیکھئے تہذیب الکمال 555/32)۔ 
5۔ محمد بن کعب القرظیؒ (طبقات ابن سعد 176/8،اس میں واقدی مشہور کذاب و متروک ہے۔ دیکھئے تقریب التہذیب 498/1، نیز أبو بكر بن عبد الله بن محمد بن أبى سبرة متروک ہے، دیکھئے تقریب التہذیب 623/1)۔،
6۔ کلبی (درِ منثور 660/6، اس کی سند پر ہم مطلع نہیں ہو سکے۔ اگر اس سے مراد وہی مشہور محمد بن سائب الکلبی ہے تو وہ بذاتِ خود کذاب و متروک ہے۔ دیکھئے تقریب التہذیب 479/1)۔ 
7۔ حسن بصریؒ (طبقات ابن سعد 176/8، اس میں واقدی مشہور کذاب و متروک ہے۔ دیکھئے تقریب التہذیب498/1، نیز قتادہؒ مدلس ہیں، دیکھئے طبقات المدلسین لابن حجر 43/1، اور روایت معنعن ہے)۔ 
8۔ مجاہدؒ (تفسیر الطبری 331/10 و طبقات ابن سعد 176/8، اس میں عند اللہ بن ابی نجیحؒ مدلس ہیں،دیکھئے طبقات المدلسین لابن حجر 39/1، اور روایت معنعن ہے)۔
9۔ ابو صالحؒ،(تفسیر الطبری 331/10، اس میں ایک راوی مجہول ہے،اور امام طبریؒ کا استاد محمد بن حمید الرازی ضعیف عند الجمہور ہے، دیکھئے الکاشف 166/2)۔ 
10۔ قتادہؒ (تفسیر الطبری 331/10، اس میں سعید بن ابی عروبہؒ مدلس ہیں اور قتادہؒ سے ان کی اکثر مرویات اختلاط کا شکار ہیں، دیکھئے طبقات المدلسین لابن حجر 31/1، اور روایت معنعن ہے)۔
سدیؒ، معاویہ بن قرۃؒ ( درِ منثور 660/6، ان دو اقوال کی اسناد پر مطلع نہیں ہو سکا، اگر ان تک اسناد صحیح بھی ہوں تو دین میں ان کی حجیت کا کوئی تصور نہیں۔ راقم)۔
دوم، ان اقوال کے مقابلے میں بخاری کی صحیح مرفوع روایت میں جو اس کا شانِ نزول بیان ہوا ہے، وہ اس تفسیر سے مستغنی کر دیتا ہے؛
عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجت سودة بعد ما ضرب الحجاب لحاجتها وكانت امرأة جسيمة لا تخفى على من يعرفها فرآها عمر بن الخطاب فقال ياسودة أما والله ما تخفين علينا فانظري كيف تخرجين . قالت فانكفأت راجعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت فقالت يا رسول الله إني خرجت لبعض حاجتي فقال لي عمر كذا وكذا قالت فأوحى الله إليه ثم رفع عنه وإن العرق في يده ما وضعه فقال ( إنه قد أذن لكن أن تخرجن لحاجتكن )۔ 
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حکمِ حجاب کے نزول کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کیلئے گھر سے باہر نکلیں۔بھاری بھر کم جسامت کی وجہ سے انہیں پہلے سے جاننے والا انہیں آسانی سے پہچان سکتا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا۔ بولے کہ اے سودہ، آپ خود کو ہم سے نہ چھپا سکیں، دیکھ لیں کہ آپ کیسے باہر نکلی ہیں۔ وہ الٹے پاؤں واپس لوٹیں۔جبکہ آپ علیہ السلام میرے گھر میں رات کا کھانہ کھا رہے تھے اور آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔ کہنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول، میں قضائے حاجت کیلئے باہر نکلی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس اس طرح باتیں کیں۔ آپ علیہ السلام پر کیفیتِ وحی طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو ہڈی کو ہاتھ میں تھامے ہوئے فرمایا۔ تمہیں اپنی حاجات کیلئے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ (بخاری 4517)۔
اس روایت کو امام ابنِ ابی حاتمؒ (تفسیر ابن ابی حاتم 3153/10،رقم الحدیث 17781)، علامہ سیوطیؒ (درِ منثور659/6)، علامہ شوکانیؒ (فتح القدیر 435/4)، علامہ صدیق حسن خان قنوجیؒ (فتح البیان 144/11) نے احزاب 59 کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ابنِ حجرؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں؛
قال الكرماني فإن قلت وقع هنا أنه كان بعد ما ضرب الحجاب وتقدم في الوضوء أنه كان قبل الحجاب فالجواب لعله وقع مرتين قلت بل المراد بالحجاب الأول غير الحجاب الثاني والحاصل أن عمر رضي الله عنه وقع في قلبه نفرة من اطلاع الأجانب على الحريم النبوي حتى صرح يقوله له عليه الصلاة والسلام احجب نساءك وأكد ذلك إلى أن نزلت آية الحجاب ثم قصد بعد ذلك أن لا يبدين أشخاصهن أصلا ولو كن مستترات فبالغ في ذلك فمنع منه وأذن لهن في الخروج لحاجتهن دفعا للمشقة ورفعا للحرج 
علامہ کرمانیؒ فرماتے ہیں کہ اگر آپ کہیں کہ یہاں حکمِ حجاب کے نزول کے بعد اس واقعے کا ذکر ہے جبکہ کتاب الوضوء میں جو روایت ہے، اس میں حجاب سے پہلے اس واقعہ کے رونما ہونے کا ذکر ہے،تو جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ دو بار پیش آیا۔ میں (حافظ ابنِ حجرؒ) کہتا ہوں کہ وہ پہلے حجاب (احزاب 53) کے بارے میں ہے، حجابِ ثانی (احزاب 59) کے بارے میں نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو برا لگتا تھا کہ اجنبی لوگ، حریمِ نبوی کو دیکھیں۔ حتی کہ صراحتاً آپ علیہ السلام سے کہہ بھی دیا کہ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں۔ پھر اس پر اصرار فرماتے رہے۔ حتی کہ حجاب کی (احزاب 53) آیت نازل ہوئی۔ پھر ان کا یہ ارادہ ہوا کہ اگر وہ پردے میں بھی ہوں،تب بھی ان کی پہچان ظاہر نہ ہو۔ پھر اس مین بھی مبالغہ فرمانے لگے، تو اللہ نے منع فرما دیا اور انہیں اپنی حاجات کیلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی،(الاحزاب 59)، تا کہ وہ مشقت اور تنگی میں نہ پڑیں۔(فتح الباری 531/8)۔
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کا اصل مقصد، آپ علیہ السلام کی ازواج، بنات اور مؤمنین کی عورتوں کو جلباب کی شرط کے ساتھ قضائے حوائج کیلئے رات کے وقت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دینا ہے،نہ کہ آزاد عورت اور لونڈی کے لباس کا فرق بیان کرنا۔ رات کے وقت ایک شریف عورت،جو کہ صرف اپنی کسی ضروری حاجت کیلئے باہر نکلی ہو، کو کوئی آدمی پہچان لے،تو یہ بات ان کیلئے باعثِ شرم و عار ہوتی ہے،جیسا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے محسوس کیا،حالانکہ ان کی عمر کافی زیادہ ہو چکی تھی،مگر جلباب اوڑھنے کی وجہ سے یہ پہچان تو ہو جائے گی کہ کوئی شریف عورت ہی جا رہی ہے،مگر ان کی شخصیت کو کوئی پہچان نہ پائے گا، لہذا اذیت سے بھی محفوظ ہو جائیں گی۔
سوم یہ کہ اگر ان اقوال کو مستند بھی مانا جائے تو ان میں صرف آزاد عورت اور لونڈی کے لباس میں فرق کا بیان ہے اور وہ فرق کیا ہے؟ آپ علیہ السلام کی سنت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے پتہ چل جاتا ہے؛ 
سیدہ صفیہ بنت حیی جب خیبر میں مفتوح ہو کر آئیں تو مسلمان کہنے لگے کہ پتہ نہیں یہ مؤمنوں کی ماں بنیں گی یا پھر انہیں لونڈی بنایا جائے گا۔ پھر اس بات پر اتفاق ہوا کہ اگر آپ نے انہیں پردہ کرایا تو ام المؤمنین ہوں گی اور اگر نہ کرایا تو لونڈی۔ جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو آپ علیہ السلام نے انہیں سواری پر اپنے پیچھے بٹھانے کیلئے جگہ بنائی اور ان کیلئے پردہ کا اہتمام فرمایا۔(بخاری 3976)۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لونڈیوں کو سر پر دوپٹہ لینے سے منع کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ آزاد عورتوں سے مشابہت اختیار نہ کریں۔(سنن الکبری للبیہقی3037، امام بیہقیؒ نے ان آثار کو صحیح کہا ہے، البتہ علامہ البانیؒ اس روایت کو نقل کر کے فرماتے ہیں؛ رجاله ثقات غير أحمد بن عبد الحميد فلم أجد له ترجمة۔ دیکھئے ارواء الغلیل 204/6۔ اس کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے؛
امام ابنِ حبانؒ نے أحمد بن عبد الحميد کو "ثقات" میں ذکر کیا ہے۔ (الثقات لابن حبان 51/8)۔
امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں؛ أحمد بن عبد الحميد بن خالد أبو جعفر الحارثي كوفي ثقة (سوالات الحاکم للدارقطنی 84/1)۔
امام بیہقیؒ نے اس کی روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (سنن الکبری للبیہقی 3037 و 13419)۔ 
نیز فرماتے ہیں؛ أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي الكوفي الرجل الصالح (سنن الکبری للبیہقی 7636، 192/4)۔
علامہ ذہبیؒ کہتے ہیں؛ المُحَدِّثُ، الصَّدُوْقُ (سیر اعلام النبلاء 24/7) )۔)۔
یعنی اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ لونڈی سر اور چہرے کو نہیں چھپائے گی، جبکہ باقی جسم کے متعلق کسی بھی نص میں کوئی تصریح نہیں ہے۔
چہارم یہ کہ شانِ نزول کے انہی اقوال سے ہی پتہ چلتا ہے کہ لونڈی کا ستر ناف سے گھٹنے تک قرار دینا درست نہیں۔ کیونکہ اگر لونڈی صرف ناف سے گھٹنے تک ستر کر کے اور باقی جسم برہنہ کر کے گھر سے باہر نکلتی تو اسے پہچاننا تو بہت آسان ہوتا۔ اصل مسئلہ ہی یہ تھا کہ لونڈی اور آزاد عورت کا لباس ایک جیسا تھا تو غنڈوں کو پہچاننے میں مشکل ہوتی۔ لہذا انہی اقوال سے لونڈی کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہونا باطل ٹھہرتا ہے۔
پنجم یہ کہ اسی شانِ نزول کو اگر درست مانا جائے تو جلباب اوڑھنے کا حکم رات کے ساتھ مقید کرنا پڑے گا،عام آزاد عورتوں کیلئے دن میں جلباب اوڑھنے کی کوئی دلیل نہ ہو گی۔ ہاں امہات المؤمنین اس سے مستثنی قرار پائیں گی کیونکہ ان کیلئے خاص ہر وقت کیلئے پردے کا حکم اس سے پہلے ہی اتر چکا تھا۔ (احزاب 53)۔
ششم یہ کہ اس شانِ نزول کو اگر درست بھی مان لیا جائے تو اس کی توجیہ اس انداز میں ممکن ہے کہ جو شریعت كی دیگر عمومی نصوص یا قواعد ومقاصد كے مطابق ہے۔ وہ اس طرح کہ 
اولاً اس قرآنی حکم کو تمام مسلمات کیلئے عام سمجھا جائے،یعنی مسلم لونڈیاں بھی اسی میں شامل ہوں، جیساکہ بعض مفسرین بھی اسی کے قائل ہیں؛ علامہ ابنِ عاشورؒ فرماتے ہیں؛
فَلَيْسَ الْمُرَادُ بِالنِّسَاءِ هُنَا أَزْوَاجَ الْمُؤْمِنِينَ بَلِ الْمُرَادُ الْإِنَاثُ الْمُؤْمِنَاتُ، وَإِضَافَتُهُ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَعْنَى (مِنْ) أَيِ النِّسَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ.
یہاں عورتوں سے مراد صرف مؤمنین کی بیویاں ہی نہیں، بلکہ تمام مؤمنات عورتیں ہیں۔ اور مؤمنین کی طرف اس کی اضافت اس معنی میں ہے کہ مؤمنوں کی کوئی بھی عورت ہو۔(التحریر والتنویر 106/22)۔
علامہ ابو حیان اندلسیؒ فرماتے ہیں؛
وَالظَّاهِرُ أَنَّ قَوْلَهُ: وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يَشْمَلُ الْحَرَائِرَ وَالْإِمَاءَ، وَالْفِتْنَةُ بِالْإِمَاءِ أَكْثَرُ، لِكَثْرَةِ تَصَرُّفِهِنَّ بِخِلَافِ الْحَرَائِرِ، فَيَحْتَاجُ إِخْرَاجُهُنَّ مِنْ عُمُومِ النِّسَاءِ إلى دليل واضح 
اور ظاہر ہے کہ اللہ کا یہ فرمان، آزاد عورتوں اور لونڈیاں، دونوں پر شامل ہے۔ بلکہ لونڈیوں کے ساتھ یہ فتنہ اکثر و بیشتر کثرتِ تصرف کی وجہ سے پیش آتا رہتا ہے۔ لہذا "نساء" سے ان کو خارج سمجھنا، کسی واضح دلیل کا محتاج ہے۔ (البحر المحیط 240/7)۔
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے اللہ نے قرآن میں اکثر مقامات پر مؤمن مردوں کو مخاطب کر کے احکامات دیئے ہیں، مگر مؤمنات پر بھی وہ ایسے ہی فرض ہیں جیسے مؤمنین پر، کیونکہ وہ انہی میں شامل ہیں۔ اسی طرح نساء المؤمنین میں مؤمن لونڈیاں بھی شامل ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ قرآن نے ایک اور مقام پر ان دونوں میں تفریق کی ہے؛
أو نسائهن أو ما ملكت أيمانهن (النور 31)۔
ولا نسائهن ولا ما ملكت أيمانهن (الاحزاب 55)۔
تو یہ تفریق نہیں،بلکہ تاکیداً انہیں الگ الگ بیان کیا گیا ہے، جیسے اللہ نے بہت سے مقامات پر مؤمن مردوں اور عورتوں کو الگ الگ خطاب فرمایا ہے؛
والمؤمنون والمؤمنات بعضهم أولياء بعض ۔۔۔۔۔ 
وعد الله المؤمنين والمؤمنات جنات۔۔۔۔۔ (التوبۃ 71 و 72) وغیرھما۔
ثانیاً،اسے رات کے ساتھ مقید کر دیا جائے (جیسا کہ اسی آیت میں اشارہ موجود ہے اور شانِ نزول کے اقوال بھی اسی کے مؤید ہیں)۔ یعنی رات کو جو بھی با حیا مسلم عورت نکلے، غنڈوں کے شر سے بچنے کیلئے جلباب اوڑھ کر نکلے۔ اور لونڈیوں اور آزاد عورت کے لباس میں فرق والی روایتوں کو دن کے اوقات پر محمول کر لیا جائے، یعنی آزاد عورتیں دن کے وقت بھی جلباب اوڑھ کر رکھیں جبکہ لونڈیاں سر اور منہ پر کپڑا نہ لیا کریں۔ اس توجیہ کیلئے مندرجہ ذیل قرائن میسر ہیں؛
1۔ آیت اپنے حکم میں عام ہے۔ اس میں آزاد اور لونڈی کے فرق کا بالکل ذکر نہیں۔
2۔ جلباب کا مقصد پہچان ہے اور اسی پہچان کی وجہ سے اذیت سے بچاؤ ہے۔ یعنی جس صورتحال کا اس آیت میں ذکر ہے، اس میں جلباب کے بغیر پہچان مشکل تھی،لہذا عورتوں کو بغیر پہچان کے اذیت دی جاتی تھی۔ اور ایسا صرف رات میں ہی ممکن تھا، کیونکہ اول تو دن میں لوگوں کی موجودگی میں غنڈوں کیلئے چھیڑ خانی کرنا مشکل ہوتا تھا۔ ثانیاً دن کے وقت بغیر جلباب کے پہچان زیادہ آسان تھی۔ لوگ پہچان سکتے تھے کہ کون آزاد یا شریف عورت ہے اور کون فاحشہ لونڈی۔ اس زمانے میں ایک با وقار آزاد خاتون كے مقابل ایک لونڈی كا معاملہ شر پسندوں كے لئے اسہل تھا۔ ہاں رات کے وقت گھپ اندھیرے میں پہچاننا مشکل ہوتا تھا کہ شریف عورت جا رہی ہے یا فاحشہ۔ تو جلباب ہی اس کا بہترین حل تھا۔
3۔ دن کے وقت لونڈی اور آزاد عورت کے لباس میں فرق کی دلیل سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر ڑضی اللہ عنہ کا حکم ہے جو کہ اوپر گزر چکا۔ آپ علیہ السلام نے کوچ کے وقت پردہ کرایا (بخاری 3976) اور کوچ دن کو ہی ہوتا ہے،رات کو پڑاؤ ہوتا ہے۔ اور ( سنن البیہقی 3037) سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جس لونڈی کو جلباب اوڑھنے سے منع کیا تھا،زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ اسے دن کے وقت دیکھا تھا، کیونکہ؛
۔۔۔ جلباب اوڑھنے کے باوجود آپ کو اس کے آزاد ہونے میں شک گزرا، حالانکہ رات کے گھپ اندھیرے میں صرف جلباب ہی نظر آ سکتا تھا، مزید شک والی چیز دیکھنا ممکن نہ تھا۔ہاں دن میں یہ ممکن تھا کہ جلباب والی عورت کو لونڈیوں والے کام کاج یا سودا سلف کی خریداری کرتے دیکھ کے شک گزرا ہو۔
۔۔۔ بلکہ دیگر حضرات نے تو مکمل طور پر پہچان کر اس کا اتہ پتہ بھی بتا دیا کہ یہ آپ کے خاندان سے ہی تھی۔
۔۔۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فوراً سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ جاگنے کا وقت تھا۔
۔۔۔ مجلس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ و دیگر حضرات کا موجود ہونا بھی مؤید ہے کہ یہ خلوت کا وقت نہیں تھا۔
رہا ابو قلابہؒ تابعی کا یہ کہنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں کوئی سر ڈھانپنے والی لونڈی نہیں چھوڑی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ 6242)۔ تو اول تو ابو قلابہؒ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ دوم یہ کہ اس کی سند میں ھشیم بن بشیرؒ مدلس ہیں اور روایت معنعن ہے، لہذا قابلِ حجت نہیں۔
نیز چھیڑ خوانی کا خطرہ نہ بھی ہو تو بھی معاشرے میں آزاد و مملوک، بلکہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی مالک و نوکر کے درمیان دنیاوی فرق روا ہے۔ لہذا صرف چھیڑ خانی کو ہی آزاد اور باندی کے لباس میں فرق کی وجہ بتانا زیادہ معقول بات نہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اثر بھی اس کا مؤید ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ جلباب اوڑھنا، چھیڑخانی سے بچاؤ کا مؤثر ترین ذریعہ اس وقت بھی تھا اور اب بھی ہے۔
رہا یہ سوال کہ اگر ان اقوال کی صحت پر شک کیا جائے تو پھر جلباب اوڑھنے کی وجہ کیا ہو گی کہ چھیڑ خانی کا ذکر تو انہی میں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اذیت رسانی کا ذکر تو قرآن میں بھی موجود ہے۔ "لکیلا یؤذین" کے الفاظ اس پر دلالت کر رہے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ وہ کونسی اذیت رسانی ہے،جس کا تعلق صرف عورتوں سے ہے،اور جلباب اوڑھ کر اس سے بچا جا سکتا ہے؟ تو یہ اذیت دو قسم کی ہو سکتی ہے؛
اول تو وہی شرم و عار،جو کہ رات کے وقت گھر سے باہر پہچانے جانے پر ہو سکتی ہے۔
دوم, غنڈوں کی چھیڑ خانی ۔ تفسیری اقوال اسی کے مؤید ہیں۔ مگر کچھ بھی ہو، باندیوں کی عزت کو غنڈوں کے حوالے کرنا، اسلامی غیرت و عفت کے مجموعی مزاج کے خلاف ہے،جیسا کہ امام ابنِ حزمؒ نے فرمایا۔ نیز یہ اقوال دین میں حجت بھی نہیں، لہذا قابلِ قبول نہیں۔ ممکن ہے کہ، بشرطِ صحت، یہ قائلین کا اپنا فہم ہو۔ 
دوسرا سوال یہ کہ پھر "ان یعرفن" کی توجیہ کیا ہوگی؟ تو جواب ہے کہ اس مراد ان کے شریف ہونے اور فواحش کی طرف راغب نہ ہونے کی پہچان ہے، جیسا کہ موجودہ دور میں بھی شریف، نظر نیچی رکھنے والی با پردہ خاتون کو چھیڑنے سے غنڈے باز رہتے ہیں، کہ ان کے آگے ان کی بد نیتی نہیں چل سکتی۔
خلاصہ یہ کہ اس آیت سے لونڈی کا ستر ناف سے گھٹنے تک ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے ساتھ جب تک دوسرے قرائن کو نہ ملایا جائے تو آزاد اور لونڈی کے لباس میں فرق بھی ثابت نہیں ہوتا۔

Post a Comment



  1. متحدہ ہندوستان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں متعدد فتنے پیدا ہوئے، اکبر کا دین الٰہی، امروہہ، لکھنؤ اور رام پور کا شیعہ مذہب، بریلویہ، دیوبندیہ، سلفیہ، قادیانیہ وغیرہ جیسے منکر القرآن فرقے متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ لاکھوں صوفی، عقل سے دور درجنوں مجدد، مہدی قسم کے لوگ مشہور ہوئے اور سادہ لوح لوگوں نے ان کی پیروی کی۔
    یو پی کا بریلوی مذھب، یو پی اور دہلی کا دیوبندی مذھب، پنجاب اور دھلی کا اہل حدیث مذھب، گورداسپور اور لدھیانہ کا قادیانی مذھب، تفصیلی بحث کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ادھوری رہے گی۔
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
    مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔
    قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
    یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .
    متحدہ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ "فتنہ انکار قرآن" کے بانی تھے۔
    متحدہ ہندوستان فرقہ پرستوں کا گھر تھا، جہاں ایک سے بڑھ کر ایک فسادی تھا۔ اور ان کے چیف گرو گھنٹال شاہ ولی اللہ تھے، انہوں نے "الہام" کا فتنہ ایجاد کیا جس کی پیروی مرزا غلام احمد قادیانی نے کی اور سینکڑوں الہامات کا اعلان کیا۔
    شاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔
    تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
    تفاسیر کا جہنم.....
    تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب ، جلالین ، ابن کثیر ،
    قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
    تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
    دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر تھی۔

    ReplyDelete

  2. وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ
    فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟
    کا مفہوم سمجھنے کے لیے براہِ کرم مکمل آیت کو غور سے پڑھیں،
    فرقہ پرست ملاؤں کے فریب سے آگاہ رہیں۔
    قرآن کریم کی آیت کے بارے میں سوچی سمجھی سازش
    عقل اور ہوش سے دور تمام فرقہ پرست دیوبندی، اہل حدیث سلفی وغیرہ سورۃ الحشر کی اس آیت کا کچھ حصہ "نام نہاد احادیث" کے حق میں نقل کرتے ہیں۔ میں جعلی اور من گھڑت احادیث کے دفاع کے لیے ان کے غلیظ خیالات پر ماتم کرنا چاہتا ہوں.. اس 'ماتم' میں میرا ساتھ کون دے گا؟
    سورہ حشر، آیت نمبر 7
    59:7
    مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
    جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے تو وہ ہے اللہ کے لیے رسول ﷺ کے لیے قرابت داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔ اور جو کچھ رسول ﷺ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
    بیان القرآن … ڈاکٹر اسرار احمد
    بہتر ہو گا اگر آپ مکمل سورۃ الحشر پڑھیں اور سمجھیں۔

    ReplyDelete
  3. مجھ سے کسی نے پوچھا کہ امام مالک، امام شافعی، امام زید بن علی نے مہدی کی روایت کیوں نہیں بیان کی؟
    میں نے جواب دیا کہ شیعوں کے مہدی 255ھ میں پیدا ہوئے۔ امام مالک نے 179 ہجری میں وفات پائی، امام شافعی کی وفات 204 ہجری میں ہوئی اور امام زید بن علی نے 122 ہجری میں شہادت پائی۔
    اسی لیے موطا امام مالک، مسند امام شافعی اور مسند امام زید میں مہدی کی روایتیں نہیں ملتی۔
    اور سنیوں کا مہدی القیامہ کے قریب پیدا ہوگا لیکن اس کی کہانیاں ہزاروں سال پہلے سے شروع ہوتی ہیں۔ کہانیوں میں سنی شیعہ سے پیچھے کیسے؟
    یہ سنیوں اور شیعوں کا مہدی کی کہانیاں گھڑنے کا زبردست مقابلہ ہے۔

    ReplyDelete

  4. 1897 عیسوی کے بعد لالچی اور خبیث فلسطینیوں نے اپنی زرعی زمینیں، جائیدادیں، مکانات وغیرہ یہودیوں کو مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیے۔
    جب میں نے اپنی جائیدادیں بیچ دیں تو میں ملکیت کا دعویٰ کیوں کروں گا؟ اور میرے دعوے کون مانے گا؟
    سرزمین فلسطین ہزاروں سالوں سے ظلم و بربریت، خون بہانے اور لالچ کی سرزمین ہے۔
    اس وقت ترک سلاطین عثمانیہ اپنی سیکڑوں مسلمان، عیسائی، یہودی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ عیاشی کا مزہ لے رہے تھے اور ہندوستان میں علی برادران کی والدہ محترمہ "بی اماں" نے "بیٹا جان اپنی خلافت پہ د ے دیجیو" جیسے ترانے گائے۔
    اللہ کا شکر ہے کہ انگریز متحدہ ہندوستان میں آ گئے اگر انگریز نہ آتے تو ہم آج بھی عیاش عثمانی خلیفہ، مغل بادشاہ، نوابوں کے غلام ہوتے ہیں۔
    انتباہ :
    اب کوئی دل جلا یہ نہ کہے کے وہ آج بھی برٹش یا یو ایس اے کا غلام ہے، زمانہ بہت اگے جا چکا ہے، اگر آپ نے اپنے بیٹوں کے سامنے یہ پرانے زمانے کے آرتھوڈوکس جملے کہے تو وہ بہت جلد آپ کو مینٹل ہسپتال میں داخل کرائیں گے۔
    پہلے ہی آپ کے بیٹے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، کینیڈا، یورپ جا رہے ہیں، انہیں یہ ہجرت مبارک ہو۔ وہ جینیئس ہیں۔ ہجرت رسول کریم ﷺ کی سنت ہے۔

    ReplyDelete

 
Top