ہمارے طلباء کو یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ 1857ء میں لڑی جانے والی جنگِ آزادی میں انگریز کے ساتھ کون تھا اور آزادی پسند کون تھے؟ اس جنگ میں پچاس ہزار علماء کرام کو کیوں قتل کیا گیا تھا ؟ تاریخ کی نصابی کتب میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس میں یا تو حقائق چھپائے گئے ہیں یا پھر حقائق کو سرکاری سطح پر اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ تاجِ برطانیہ یا پھر انگریزوں کے خلاف چلائی جانے والی تحریکیں ہمیں پڑھائی نہیں جاتیں، اسکی وجہ یہ ہے کے مسلم لیگ کی اکثریت انہی نوابوں ، جاگیرداروں پر مشتمل تھی جن کے بڑوں نے انگریز کے ساتھ مل کر حریت پسندوں کو پھانسیوں پر لٹکایا. کانگرس کے پیچھلے دور حکومت میں ہندوستان نے پاکستان کو یہ پیشکش کی تھی کے جنگ آزادی کی سالگرہ ، ہر سال دونوں ملکوں کو مل کر منانی چاہیں مگر پاکستان کی جانب سے اسکا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا . کیسے دیا جاتا ؟ پاکستان کے حکمران طبقات اسی سامراجی نوآبادیاتی نظام کی باقیات ہیں . شاہ محمود قریشی جو پیپلز پارٹی کے وقتوں میں وزیر خارجہ تھے ، انہوں نے برطانوی وزیر آعظم کو دورہ پاکستان کے موقع پر سپاس نامہ پیش کیا جس میں انہوں نے فخریہ طور پر اس 'اعزاز' کا اعتراف کیا کے انکے بزرگ ہمیشہ تخت لندن کے وفادار رہے اور انہوں نے کیسے ستاون کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کو قتل کر کے برطانوی راج سے القاب و انعامات وصول کیے . یہ ہی حال ان تمام سجادہ نشینوں ، نوابوں ، جاگیرداروں ، سرداروں اور وڈیروں کا ہے جو نسل در نسل پہلے انگریز پھر آل انڈیا مسلم لیگ اور اب بہت سی دیگر سیاسی پارٹیوں کا حصہ بن کر اس خطے کی محنت کش عوام کا استحصال کر رہے ہیں . ایسے میں جنگ آزادی کے ان شہداء کی قربانیوں کو کون یاد کرے گا ؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

Post a Comment