GuidePedia

0


٭٭٭ ولی کے بغیر نکاح نہیں ٭٭٭
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 ''سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے''۔

 (ابو دائود مع عون۲/۱۰۱،۱۰۲۔ ترمذی۴/۲۲۶، ابنِ ماجہ۱/۵۸۰، دارمی۲/۲۱، ابنِ حبان (۱۲۴۳)، طحاوی۴/۸،۹،۴/۳۶۴، احمد۴/۴۱۳،۴۹۴، طیالسی (۵۲۳)، دار قطنی۳/۲۱۸۔۲۱۹،حاکم۲/۱۷۰، بیہقی۷/۱۷۰، المھلی۹/۴۵۲، شرح السنہ۹/۳۸، عقود الجواہر المنیفہ۲/۱۴۶)

امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں سیدنا علی ، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا معاذبن جبل ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا جابر بن عبداللہ ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا عمران بن حصین، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا مسور بن محزمہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں اور اکثر صحیح ہیں اور اسی طرح اس مسئلہ میں ازواج النبی سیدہ عائشہ ، سیدہ اُم سلمہ اور سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہن سے روایت مروی ہیں۔ (مستدرک حاکم۲/۱۷۲)

یعنی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ تیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس حدیث کے راوی ہیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی شان اس بات پر نص قطعی کا حکم رکھتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ''جس بھی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی اگر اس مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی تو عورت کو مہر دینا ہے اس وجہ سے کہ جو اُس نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھا۔ اگر وہ (اولیا) جھگڑا کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکم اس کا ولی ہے''۔

 (شرح السنہ ۲/۳۹، ابو داؤد۶/۹۸، ترمذی۴/۲۲۷، ابن ماجہ۱/۵۸، دارمی۲/۲۶، شافعی۲/۱۱، احمد۶/۴۷،۱۶۵، طیالسی (۱۴۶۳)، حمیدی۱۱۲/۱،۱۱۳، ابنِ حبان (۱۲۴۱)طحاوی۳/۷٧، دارقطنی۳/۲۲۱، حاکم۲/۱۶۸، بیہقی۷/۱۰۵)

اس حدیث کی شرح میں محدث عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

''یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں''۔

آگے مزید فرماتے ہیں:

''حق یہی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح باطل ہے جیسا کہ اس پر باب کی احادیث دلالت کرتی ہی۔''
(عون المعبود ۲/۱۹۱، طبع ملتانی)

علاوہ ازیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا میں ''ایّما''کلمہ عموم ہے جس میں باکرہ 'ثیبہ چھوٹی بڑی ہر طرح کی عورت داخل ہے کہ جو بھی عورت ولی کے بغیر اپنا نکاح از خود کرے اس کا نکاح باطل ہے ۔ رسول مکرم ۖکی یہ حدیث اس بات پر نص و قطعی ہے کہ ایسا نکاح باطل ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہی:

''اس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کہ ''ولی کے بغیر نکاح نہیں '' پر اہل علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب ، عبداللہ بن عباس ، اور ابو ہریرہ کا عمل ہے اور اسی طرح تابعین فقہا میں سے سعید بن مسیب ، حسن بصری ، شریح، ابراہیم النخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ اور امام ثوری ، امام اوزاعی، امام عبداللہ بن مبارک ، امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحق بن راہو رحمة اللہ علیہم کا بھی یہی موقف ہے''۔ (ترمذی۳/۴۱۰،۴۱۱)

Post a Comment

 
Top