GuidePedia

1



"خائضہ عورت" 

میری یہ پوسٹ بالخصوص بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور کی طالبات کے لیے ہے کہ مخصوص ایام میں اسلام ان سے کیسا برتاؤ کرنے کا حکم دیتا ہے 
. 
"حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا"
. 
حائضہ کے ساتھ خوردونوش میں شرکت کرنا حتی کہ اس کا جھوٹھا کھانا بھی جائز ہے، 
دلائل حسب ذیل ہیں
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو وہ اس کے ساتھ کھانا پینا اور گھروں میں میل جول رکھنا چھوڑ دیتے تھے 
صحابہ کرام نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی
ویسئلونک عن المحیض، 
البقرہ، 222
تو رسول پاک نے فرمایا :
اصنعوا کل شئ الا النکاح، 
صحیح مسلم، کتاب الحیض 
تم ان سے ھر طرح کا فائدہ اٹھا سکتے ہو البتہ جماع و ھم بستری نہیں کر سکتے
. 
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ 
کنت اشرب وانا حائض ثم انا ولہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم فیضع فاہ علی موضع فی فیشرب واتعرق العرق وانا حائض ثم اناولہ النبی صلی اللہ علیہ و سلم فیضع فاہ علی موضع فی
میں حالت حیض میں پانی پیتی اس کے بعد وہ برتن نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم میرے ھونٹوں کی جگہ پر اپنے ھونٹ رکھتے اور پانی پیتے، اور جب (دانتوں کے ساتھ) ہڈی سے گوشت اتارتی جبکہ میں حائضہ ھوتی اس کے بعد میں وہ ہڈی نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دانت میرے دانتوں کی جگہ پر رکھتے، 
صحیح مسلم، کتاب الحیض
. 
"اس کے علاوہ حائضہ عورت اپنے خاوند کے سر میں کنگھی بھی کر سکتی ہے"
. 
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں :
کنت ارجل راس رسول اللہ وانا حائض
میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی اور میں حائضہ ھوتی تھی 
صحیح بخاری، کتاب الحیض
. 
"خاوند اپنی حائضہ بیوی کی گود میں قرآن بھی پڑھ سکتا ہے"
. 
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم کان یتکئ فی حجری وانا حائض ثم یقرا القرآن
نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم میری گود میں ٹیک لگا لیتے اور میں حائضہ ھوتی پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرآن پڑھتے تھے، 
صحیح بخاری، کتاب الحیض،
. 
"حائضہ کے ساتھ سونا بھی جائز ہے"
. 
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ھوئی تھی اتنے میں مجھ کو حیض آ گیا اور میں نکل بھاگی اور اپنے حیض کے کپڑے سنبھالے، 
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تجھے نفاس( یعنی حیض) ہوا ہے؟ تو میں نے کہا جی ہاں 
فدعانی فادخلنی معہ فی الخمیلۃ 
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا، 
صحیح بخاری، کتاب الحیض
. 
اللہ پاک نے اپنے قرآن میں فرمایا :
بے شک میرے نبی کی ھستی میں تمھارے لیے (زندگی گزارنے کا) بہترین نمونہ ہے

Post a Comment

 
Top